Friday , September 17 2021

یہ غذائیں کھائیں اور دل کی شریانوں کو بند ہونے سے بچائیں

صحت مند وزن اور غذا کو برقرار رکھنا بڑھتی عمر میں بھی شریانوں کے مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور ہاں کسی بھی عمر میں ان غذاﺅں کے استعمال میں تاخیر نہیں ہوتی۔
دنیا بھر میں امراض قلب کو اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں افراد کی اموات ہوتی ہے۔
اور جب بات امراض قلب کی ہو تو یہ درحقیقت شریانوں کی بندش کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ مختلف عناصر جیسے کیلشیئم، پلاک اور فیٹی ایسڈز جمع ہوکر شریانوں کو بندکردیتے ہیں، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جو ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ایسی کوئی جادوئی غذا نہیں جو شریانوں میں جمع ہونے والے مواد کو صاف کردے، مگر اچھی غذا شریانوں کے بند ہونے کے عمل کو سست ضرور کردیتی ہے۔
جو
جو صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور برسوں سے اس کے فوائد پر تحقیقی رپورٹس سامنے آرہی ہیں، دلیے کی شکل میں اس کا استعمال جسم کو غذائی فائبر فراہم کرتا ہے جو کہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے، جو کہ شریانوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ کولیسٹرول خون کی شریانوں کی اندرونی تہہ میں جاکر وہاں وقت گزرنے پر پلاک بناتا ہے، جو ہارٹ اٹیک یا دیگر امراض قلب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
بیج
لوبیا یا دیگر بیج بھی فائبر کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، فائبر کے فوائد کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، ان بیجوں پر مشتمل غذا شریانوں کی لچک کو زیادہ بڑھانے میں مدد دیتی ہے، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رکھنا ممکن ہوتا ہے، بلڈ پریشر میں اضافہ بھی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ہارٹ اٹیک یا فالج کا باعث بنتا ہے، اسی طرح بیجوں کا استعمال ورم سے بھی لڑتا ہے جو کہ امراض قلب میں اہم کردار ادا کرنے والے عنصر ہے۔

دالیں
پروٹین سے بھرپور دالیں بیجوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جن کو کھانے سے بیج جیسے فوائد ہی حاصل ہوتے ہیں، ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دالوں کا استعمال شریانوں کو ہائی بلڈ پریشر سے ہوےن والے نقصان کو ریورس کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ دالوں میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اس میں موجود منرلز جیسے کیلشیئم، پوٹاشیم اور میگنیشم بلڈ پریشر کی سطح معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
مچھلی
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو عام طور پر دماغی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے مگر یہ ورم کش بھی ہوتے ہیں جو دل کی صحت کو فائدہ پہنچاتے ہیں، مچھلی میں ان فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو شریانوں میں جمع ہونے والی چکنائی کی سطح کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پستے
گریاں بھی بند شریانوں کو کھولنے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں کیونکہ ان سے جسم کو دل کے لیے فائدہ مند چکنائی حاصل ہوتی ہے، پستے اس حوالے سے بہترین ہے جس میں نباتاتی سٹیرولز موجود ہے جو کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

ہلدی
ہلدی کو سپرفوڈ قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان میں لگ بھگ ہر کھانے میں اس کا استعماہ وتا ہے، اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ شریانوں میں جمع ہونے والی چکنائی سے تحفظ دینے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تربوز
اگر آپ کو معلوم نہیں تو جان لیں کہ یہ مزیدار پھل بلڈ پریشر کی سطح کم کرنے کے لیے بہترین مانا جاتا ہے جس سے خون کی شریانوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، جس سے شریانوں کی لچک برقرار رہتی ہے اور اس کے افعال معمول پر رہتے ہیں۔ تربوز میں موجود امینو ایسڈ کو جسم نائٹرک ایسڈ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے جس سے شریانوں کو سکون ملتا ہے۔

اجناس
گندم اور دیگر اجناس کا استعمال بھی شریانوں کی صحت کے لیے انتہائی فائدہ ہے، یہاں تک کہ بریڈ اور پاستا بھی دل کی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں اور شریانوں کو کھول سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ہر 10 گرام اجناس کا استعمال امراض قلب کا خطرہ 14 فیصد تک کم کردیتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک کا امکان 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ ان اجناس میں میں موجود فائبر ہوتا ہے جو نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے جبکہ معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما کرتا ہے جس سے بھی دل کی صحت کو بلاواسطہ فائدہ ہوتا ہے۔
آلو
جی ہاں آلو بھی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بس بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے، آلو پوٹاشیم سے بھرپور سبزی ہے جس سے بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنا ممکن ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس میں مناسب مقدار میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے، تاہم آلو کو تلنے یا بہ زیادہ گھی سے بنانے سے یہ فائدہ ختم ہوجاتا ہے۔

چاکلیٹ
بند شریانوں کو کھولنا چاہتے ہیں؟ تو کچھ مقدار میں چاکلیٹ کھانا عادت بنالیں، چاکلیٹ میں موجود کوکا فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو ایسا نباتاتی مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے جو دل کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ جو لوگ اعتدال میں رہ کر چاکلیٹ کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ماہرین اس حوالے سے ڈارک چاکلیٹ کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس میں کوکا کی مقدار زیادہ وہتی ہے۔
انڈے
ویسے تو انڈوں میں غذائی کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے مگر طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ غذائی کولیسٹرول خون کی سطح میں نہ ہونے کے برابر اثرات مرتب کرتی ہے۔ درحقیقت انڈے خون میں فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح بڑھاتے ہیں جو کہ شریانوں میں مواد کے اجتماع کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ انڈے کھانے کی عادت امراض قلب کا خطرہ 11 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

بیریز
فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور بیریز جیسے اسٹرابیری، بلیو بیری اور بلیک بیری وغیرہ کا ہر ہفتے کچھ مقدار میں استعمال ہارٹ اٹیک کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔ ان پھلوں میں موجود اجزا خون کی شریانوں کو پھیلنے میں مدد دیتے ہیں جس سے خون کی روانی بہتر ہوجاتی ہے۔
سبز چائے
اس گرم مشروب کے متعدد فوائد ہیں اور کچھ عرصے قبل ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس میں موجود ایک کمپاﺅنڈ ای جی سی جی شریانوں میں چربی کے اجتماع کو کم کرتا ہے، اسی طرح سبز چائے کا استعمال نقصان دہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسڈر کی سطح بھی کم کرتا ہے۔

دہی
پروبائیوٹیکس معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما بڑھاتے ہیں جو کہ دہی میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے، یہ بیکٹریا بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔


About

Skip to toolbar