Wednesday , May 18 2022

مکہ مکرمہ میں ساڑھے سات سو سال پرانی قبروں کے آثار دریافت

المعلاءقبرستان کے قریب اسمارٹ کار پارکنگ کے لیے کھدائی کے دوران قبروں کے آثاردیارفت ہوئے،رپورٹ
مکہ مکرمہ (اعتماد نیوز)مکہ معظمہ کے سیکرٹریٹ حکام نے مقدس دارالحکومت میں المعلاءقبرستان کے قریب کھدائیوں کے دوران 687ہجری کے دور کی قبروں کے آثاردریافت کیے ۔ اس اعتبار سے قبروں کے یہ آثار 754 سال پرانے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق سیکڑوں سال پرانی قبروں کے آثار کا پتا اس وقت چلا جب المعلاءقبرستان کے قریب اسمارٹ کار پارکنگ کے لیے کھدائی کی جا رہی تھی۔مکہ سیکرٹریٹ کو ملنے والے پرانی قبروں کے آثارمتعلقہ حکام کے حوالے کردیے جائیں گے۔المعلاءقبرستان حرم مکی کی طرف جانے والے الحجون روڈ کی دائیں جانب واقع ہے۔ اسی سمت میں مکہ کی المعابدہ کالونی بھی واقع ہے۔ اس کالونی کا مسجد حرام اور المعلاءقبرستان کے درمیان کا فاصلہ تقریبا برابر ہے۔ قبرستان میں میتوں کی تجہیز تکفین اور غسل کے لیے بھی ایک جگہ مختص ہے جب کہ میتوں کو لانے والی ایمبولینسوں کے لیے پارکنگ بھی بنائی گئی ہے۔ یہاں پر تدفین کے لیے لائے جانے والی بیشترمیتوں کی نماز جنازہ مسجد حرام ہی میں ادا کی جاتی ہے۔المعلاءقبرستان قبل ازاسلام سے قائم ہے۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد اور بنی ہاشم کی کئی اہم شخصیات بھی مدفون ہیں۔ کئی جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین، ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلد، عبداللہ بن زبیر، اسماءبنت ابو بکر رضوان اللہ علیھم ، خلیفہ عباسی ابو جعفر المنصور، سرکردہ علماءاور کئی صلحا اسی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔


About

Skip to toolbar