Friday , December 9 2022

طالبان اور امریکہ یک جان اور دو قالب ہونے کے قریب

افغان طالبان نے امن عمل کے حوالے سے معنی خیز مذاکرات کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں مسجد حملے میں طالبان سربراہ کے بھائی کے قتل سے امریکا کے ساتھ مذاکرات ختم نہیں ہوں گے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ایک رہنما نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے قائدین کی شہادت سے ہمیں اپنے مقصد سے روکیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں’۔
امریکا سے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے مقصد کے قریب ہیں’۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود افغان طالبان کے رہنما کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے حتمی اور معنی خیز دور کے لیے تیاری کی جارہی ہے۔

دوحہ میں طالبان کا سیاسی دفتر بھی قائم ہے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی دوحہ میں ہورہے ہیں۔

طالبان رہنما نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے اکثر مسائل حل کرلیے ہیں اور محض چند باقی رہ گئے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ مزید مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، تاہم طالبان، امریکی فوجیوں کی دست برداری پر جنگ بندی کا سوچ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں اس وقت امریکا کے تقریباً 14 ہزار فوجی موجود ہیں جو کارروائیوں کے علاوہ افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور انہیں تیار کررہے ہیں۔

افغانستان میں جاری طویل جنگ میں ہزاروں شہریوں سمیت جنگجو اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، جس کے حوالے سے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کی رپورٹس میں کئی مرتبہ واضح کیا گیا ہے کہ امریکی فورسز کی بمباری سے سب سے زیادہ بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔


About

Skip to toolbar