Tuesday , July 27 2021

تین اولمپک چار ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم آ ج 17ویں نمبر پر کھری ہے..محمد ثقلین

لاہور(اعتماد نیوز) سابق اولمپیئن اور قومی ہاکی ٹیم کے کپتان محمدثقلین نے کہا ہے کہ 80کی دہائی میں جیت کے نشے میں بیک اپ تیار کرنا بھول گئے جہاں سے پاکستانی ہاکی نیچے آ نا شروع ہوئی ۔جب قاسم ضیاء کی قیادت میں پاکستان کی گیارہویں پوزیشن حاصل کی اس وقت بیک اپ پر کا کیا جاتا تو آج ہماری ہاکی یہاں نہ کھڑی ہوتی ۔تین اولمپک چار ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم آ ج 17ویں نمبر پر کھری ہے۔اسکی کئی وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ فنڈز کی کمی کاہونا ہے۔ہاکی بہت مہنگا کھیل بن چکا ہے ہاکی شوز تین ہزار ہاکی دس ہزار گول کیپر کاسامنا لاکھ روپے سے زیادہ میں ملتاہے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کا اپنا کوئی سٹیڈیم نہیں اورنہ ہی آ فس اپنا ہے۔سالانہ فنڈز چند کروڑ روپے ملتے ہیں۔اسکے مقابلے انڈیا کو ملنے والی گرانٹ آ ٹےمیں نمک کے برابر ہے۔انڈین ہاکی فیڈریشن کی سالانہ گرانٹ انڈین تین ارب روپے ہے۔ اسی وجہ سے اندین ہاکی ٹاپ فور میں ہے اورکسی بھی وقت عالمی چیمپین بن سکتا ہے۔جونیئر کا عالمی چیمپین ہے اسکی وجہ انہوں نے اپنا ڈومیسٹک مظبوط کرنا ہے۔اس لیے پاکستان ہاکی تباہی کا کسی ایک کوذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ہاکی پروان چڑھانے کے لئے حکومت سپانسر سٹیک ہولڈرز فیڈریشن کوچ اور کھلاڑیوں کا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا پاکستان میں ایج گروپ انڈر16٫18,19اور جونئیر ٹیمیں بنانا ہوگی۔سکول کالج کی ٹیمیں اور ایونٹ منعقد کرنا ہونگے۔لانگ ٹرم پلاننگ بنانا ہوگی پاکستان میں جونئیر ٹیم میں زائد عمر کھلاڑی شامل کیے جاتے ہیں۔ہاکی فٹنس کا کھیل ہے۔اورتیز ترین کھیل ہے اس لیئے جرمنی کھلاڑی بیس سال میں ورلڈ چیمپئن ہوتا ہے پاکستان کی جونیئر ٹیم کا کھلاڑی پچیس سال کا ہوتاہے۔اس لئے ہمارا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے۔اس کےساتھ پہلے پاکستانی ٹیم میں تمام صوبائی کھلاڑی شامل ہوتے تھے اب ایسا نہیں ہے اس لیے پاکستان ہاکی کےلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


About

Muhammad Imran Khan Lohani
Skip to toolbar