Saturday , October 31 2020

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بھارت میں گیارہ پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف درخواست میں وفاق کو نوٹس

اعتماد نیوز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت میں گیارہ پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف درخواست میں وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ، سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی درخواست پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی ۔ وکیل چوہد ری حسیب نے کہاکہ مفاد عامہ اور نیشنل کاز کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

وکیل نے کہاکہ ہندو فیملی بھارت گئی را نے آر ایس ایس کے ذریعے ان کو قتل کرا دیا۔ انہوںنے کہاکہ اس فیملی نے را کےلئے جاسوسی کرنے سے انکار کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صدر صاحب پاکستانی شہریوں خصوصی طور پر اقلیتوں کےلئے آواز اٹھانا بہت اچھا ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ اقلیتوں کا خیال رکھنا ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردی۔بعد ازاں سربراہ ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوشش ہے کہ کیس پر جوڈیشری اور لائرز کی ایک آواز بنے،حکومت پہلے بھی ہمارے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جلد تمام سفارتکاروں کا ایک اجلاس بلا رہا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے اس معاملے کو اپنا فرض سمجھا۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تمام بار عدالت پیش ہوئی اس پر انکا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ انڈیا کی سپریم کورٹ اللہ کا گھر مٹا کر بھگوان کا گھر بنا رہی ہے ،جب ایک اللہ کا گھر بنا ہوا ہے، اسے تسلیم کرنا چاہیے تھا،انڈیا گاندھی کے دور میں سیکولر تھا۔

انہوں نے کہاکہ تمام ہندو کمیونٹی اس بات پر کھڑی ہے کہ اللہ کا گھر مٹا کے بھگوان کا گھر نہیں بنایا جاسکتا۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے کہاکہ بھارت میں پاکستانی سفارت خانے کو رسائی نہیں دی جا رہی،اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہاکہ ہندو ازم میں کیا سیکھتا ہے، ،مگر بھارت دوسری طرف جا رہا ہے۔

#اسلام_آباد_ہائیکورٹ، #اطہرمن_اللہ، #نوٹس، #قتل، #ہندو، #بھارت، #اقلیتیں،

About

Leave Comment

Skip to toolbar