Saturday , October 24 2020

ںظام حکومت بہتر چلانے کے لیے عمران خان کوtwitter نہیں ایک منجھے ہوئے Tutorکی ضرورت ہے

تحریر

محمد ناصراقبال خان

میں سمجھتاہوں ہماری شاہراہوں پرپیدل روزی تلاش کرنے والے چھابڑی فروش ہمارے ارباب اقتدار سے زیادہ دانااوردوراندیش ہیں، وہ جس وقت ناجائزتجاوزات کیخلاف آپریشن پرماموراہلکاروں کی آمد کا شورسنتے ہیں توفوری طورپر اپنی چھابڑی سمیت کسی محفوظ مقام کی طرف دوڑپڑتے ہیں۔ کسی شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوتووہاں سے کسی گاڑی کو اپنی سمت آتاہوادیکھ کر زیرک شہری وہیں سے واپس پلٹ جاتے ہیں اوریوں انہیں دوسروں کی طرح خواری کاسامنا نہیں کرناپڑتا ۔

کسی ایک کی غلطی یااس کے ساتھ پیش آیا حادثہ یاسانحہ دوسروں کیلئے نجات کاپیغام یا بچاﺅکاراستہ بن جاتا ہے ۔ہمارے دوست چینی حکام اورعوام نے جس طرح کرونا کامقابلہ اوراس سے بچاﺅ یا نجات کاراستہ تلاش کیا وہ پاکستان کیلئے مشعل راہ تھا مگر ہمارے ”ویژن ”برانڈوزیراعظم عمران خان اورزیرتربیت وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار میں دوسروں سے کچھ سیکھنے کی نیت اورصلاحیت نہیں ہے۔

مہمانوں کے روبروبیٹھتے وقت ٹانگ پرٹانگ رکھنا”تدبر” نہیں” تکبر” کی علامت جبکہ اخلاقیات سے عاری عادت ہے،میںروزانہ اخبارات میںکپتان اور بزدارسمیت وفاقی وصوبائی وزراءاورحکمران جماعت کے عہدیداران کو ٹانگ پرٹانگ رکھ کربیٹھے ہوئے د یکھتاہوں تومجھے اپنے ہم وطنوں پرترس آتا ہے جواس قسم کے اناپرست عناصر کے رحم وکرم پرہیں۔دوقدم آگے جبکہ چارقدم پیچھے کی سمت اٹھانا گورننس نہیں،کرونا کی آمد سے اب تک وفاق سمیت ہر صوبائی حکومت کی طرف سے ماہرین کے ساتھ مشاورت، مستقل مزاجی اوردوررس منصوبہ بندی کافقدان دیکھا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان جس معاملے کی ابجد سے آگاہ نہیں ہوتے وہ اس پربھی ماہرانہ تبصرہ کرکے عوام کواپنامذاق اڑانے کا جوازفراہم دیتے ہیں جبکہ زیادہ ترایشوز بارے ان کانکتہ نظر معاشرے میں گمراہی اورمایوسی کاسبب بنتا ہے،میں پھر کہتا ہوں اگروزیراعظم عمران خان نے اپنا شوق پوراکرنے کیلئے زیادہ” بولنا” ہے توپھر ”تولنا”سیکھیں۔عمران خان نے بار بار عوام سے کہا گھبرانا نہیں لیکن بیچارے لوگ گھبرا گئے مگر ملک میں ہونیوالی اموات کے باوجود ان کا وزیراعظم بالکل نہیں گھبرایا۔

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ فرمایا تھا” اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا توروزقیامت عمر(رضی اللہ عنہ) سے اس بارے میں پوچھ ہوگی ”۔آج اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کوریاست مدینہ بنانے کادعویٰ کیاجارہا ہے وہاں انصاف ، روزگار اورحقوق سے محروم لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمررہے ہیں،درندے قوم کی بیٹیوں اوربیٹوں کی عزت تارتاراورانہیں قتل کررہے ہیں مگر ریاست مدینہ بنانے کاداعی وزیراعظم خودکوجوابدہ نہیں سمجھتا ۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کی باوفااورباصفا اہلیہ نے فرمایا تھا،وہ گھر میں دوران استراحت اچانک بے چینی اوربیقراری کی کیفیت میں اٹھ بیٹھتے اورزاروقطار روتے کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جوابدہی سے بہت ڈرلگتا تھا۔

آج ہمارے وزیراعظم کا ہشاش بشاش چہرہ مسکان اوراطمینان کی تصویر بناہوتا ہے۔،مجھے تووہ کوئی ماڈل لگتے ہیں جس کوہروقت اپنے جوتوں اورسوٹوں کی نمائش میں دلچسپی ہوتی ہے۔قوم سے عطیات کی اپیل کرنیوالے وزیراعظم نے خود کروناوبا سے نجات کیلئے کیا عطیہ کیاکسی کومعلوم نہیں،کیاہوتاتویقینا علم ہوتا ۔اگرعمران خان نجات دہندہ ہوتے تو اپنے قصر کونیلام کرکے وہ پیسہ مستحقین پرنچھاورکرتے اورخود ایک کنال یادس مرلے کی رہائشگاہ میں شفٹ ہوجاتے جودوافراد کیلئے کافی ہے ۔

کروناوبا سے کروڑوں پاکستانیوں کاروزگار بری طرح متاثر ہوا ، کئی ملین افرادکوملازمتوں اور تنخواہوں سے محروم ہوناپڑا لیکن وزیراعظم ،وزرائے اعلیٰ ،گورنرز اوروفاقی وصوبائی وزراءسمیت ارکان اسمبلی وبا کے ایام میں بھی بھاری مراعات وصول کر رہے ہیں۔نوے فیصدارکان اسمبلی کادوران قانون سازی ووٹ دینے کے سواکوئی کردارنہیں ہوتا لیکن وہ قومی وسائل ہڑپ کررہے ہیں ۔

یہ نام نہادجمہوری نظام عوام پربوجھ ہے ،اس نظام سے مستفیدہونیوالے عوام کے مسیحا نہیںہوسکتے ،خلقت کیلئے خلافت سے بہترکوئی نظام نہیں۔قومی وسائل پرپلنے والے حکمران کروناوبا کے دوران اگر مراعات وصول نہ کرتے تویقینا قوم ان کے اس اقدام کوقدرکی نگاہ سے دیکھتی ۔

وزیراعظم سمیت وز رائے اعلیٰ ،گورنرز ،وفاقی وصوبائی وزراءاورارکان اسمبلی عوام کیلئے رنجیدہ یاکروناسے نجات کیلئے سنجیدہ نہیں،ان کے چہروںسے صاف ظاہر ہے ۔حکمران اشرافیہ کی حماقت اورانتظامی جہالت سے کروناوباشدت اختیار کرگئی مگر انہیں اپنی مجرمانہ غفلت کے سبب ہونیوالی اموات پرکوئی پچھتاوانہیں جبکہ مداواوہ کرتا ہے جس کوپچھتاوا ہو۔جہاں تدبراورتدبیرکی ضرورت ہوعمران خان کولگتا ہے وہاں بھی تقریر سے کام بن جائے گا۔

پاکستان میں کسی ڈَفر کوڈَفر کہنااوراس سے ڈِفر کرناخطرے سے خالی نہیں،خاص طورپراگراس کے پاس کسی طرح اقتداریااختیارآجائے ۔ان دنوں ہمارے وردی پو ش ایک اورپٹھان بلے باز کواٹھائے پھررہے ہیں اوروہ بھی ہواﺅں میں اڑرہا ہے ،خدارابلے باز ریاست پررحم کریں اورسیاست سے دوررہیں۔ہمارے وردی پوش ہربار”مقبول ”پرمہربان ہوتے ہیں،وہ اس بارملک وقوم کیلئے کوئی” معقول” تلاش کریں ،اپنے ہاتھوں سے بت تراشنا اورپھرانہیں توڑنایہ روش مزید نہیں چلے گی۔بلے بازعمران خان کی طرح ان کے وزیروں مشیروں کارویہ بھی تکبر کاغماز ہے ،ان کے شہبازگل نامی مشیر نے ایک صحافی نہیں بلکہ پاکستان کی آزاد صحافت کوگالی دی ہے،دیکھتے ہیں وزیراعظم اپنے اس بدزبان مشیر کیخلاف کیاکارروائی کرتے ہیں۔

عمران خان کوtwitter نہیں ایک منجھے ہوئے Tutorکی ضرورت ہے،انہیں twitter پرکئی بار خفت کاسامناکرناپڑا مگروہ باز نہیں آتے ۔عمران خان یادرکھیں وزیراعظم کامنصب” بیانات” نہیں ”اقدامات” کیلئے ہوتاہے،سینکڑوں ترجمان ہوتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی بیانات ایک بڑاسوالیہ نشان ہیں ،موصوف نے اپنا وزیراورمشیراطلاعات تبدیل کیا جبکہ انہیں اپناطرزسیاست اوراندازگفتگو بدلنا چاہئے ،جس سے انہیں اورہمیں بھی ان کے وزیراعظم ہونے کایقین آجائے ۔وزیراعظم اپنی کمزور” بصارت” کیلئے تو عینک استعمال کرتے ہیں لیکن” بصیرت”دنیا کے کسی” بازار”اور”بزدار” سے نہیں ملتی۔

یک ناشددوشد کے مصداق عمران خان سمیت ان کے معتمدسردارعثمان بزدار بھی ناتجربہ کاراورسیکھنے آئے ہیں،ان دونوں کی ناتجربہ کاری اورہٹ دھرمی نے وطن عزیزکوتختہ مشق بنادیاہے۔

عمران خان کوبردبار رفقاءکی ضرورت ہے مگر تخت اسلام آبادپروزیراعظم کے چاروں طرف بزدار براجمان ہیں۔انتظامی صلاحیت اوربصیرت سے محروم حکمرانوںنے جس طرح اب شہریوں کیلئے ماسک” فرض”کیا ہے اگر شروع میں کردیاہوتاتوآج ہم چائینہ کوپیچھے نہ چھوڑ تے۔جس وقت چین میں آدم خور کورونا نے اپنی وحشت کابگل بجایاتھا اگراُس وقت پاکستان کے ارباب اقتدارواختیار نے اِس وباکاراستہ روکنے یااسے محدودکرنے کیلئے ضروری انتظامات اوراقدامات کئے ہوتے توآج ہرطرف کورونا کا ڈراﺅنا بھوت ہمارے ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ نہ اتار رہا ہوتا۔

حالیہ ماہ رمضان کی آمدسے قبل مساجد کیلئے ایس اوپیز منظرعام پرآئے اورمیں نے اپنی مقامی مسجد میں امام سمیت نمازیوں کارویہ دیکھا تومجھے بہت ڈر لگا جس پر میں نے زمانہ طالبعلمی کے اپنے دوست ناصر محمودگل کوفون کیا جو کئی دہائیوں سے پنجاب کے صوبائی وزیرقانون اورسنجیدہ سیاستدان راجا بشارت کے معتمد اور قومی سیاست اورصحافت میں ان کی نیک نامی کیلئے کافی مستعد ہیں ۔میں نے انہیں راجا بشارت تک پہنچانے کیلئے ایک پیغام دیا،میں نے کہا ماسک کی پابندی کے بغیرحکومت کے ایس اوپیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،انہوں نے یقینا پیغام پہنچادیاہوگامگر بزدار حکومت نے سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیا اورآج نتیجہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔ماسک کے معاملے میں اس مجرمانہ غفلت پرارباب اقتدار سے حساب جبکہ اس سے نجات کیلئے ماہرین سے کام لیاجائے۔قوم کرونا کے معاملے میں عمران خان کے کسی بھاشن کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

پاکستان میں جوانسان دوست مسیحا اور فرض شناس پولیس کے وردی پوش محافظ اپنے صادق جذبوں کے ساتھ کروناوبا سے شہریوں کی قیمتی جانیں بچاتے ہوئے خودحق رحمت سے جاملے بیشک وہ شہید ہیں،اس میں کوئی دورائے نہیں لہٰذاءانہیں شہید لکھنااورپکارنا ہمارافرض ہے۔

حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں آدم خورکرونا متعدد ڈاکٹرزاورعامرڈوگرشہید سمیت پولیس آفیسرز واہلکاروں کی قیمتی زندگیاں نگل گیا،اس صورتحال نے ڈاکٹرزاورپولیس اہلکاروں کے پیاروں کوخوفزدہ کردیاہے۔

پولیس کے متعدد سینئر حکام اورمستعداہلکاران دنوں کرونا کی زدمیں آئے ہوئے ہیں،انہیں ہماری دعاﺅں اوروفاﺅں کی ضرورت ہے۔ کروناوبا کی آمد سے اب تک انتھک ڈاکٹرزاورفرض شناس پولیس فورس کے جانباز اس کیخلاف ہراول دستہ کاکرداراداکررہے ہیں لیکن بلے بازوں نے انہیں ان کے حال پرچھوڑدیا ہے۔

وفاقی اورہرصوبائی حکومت فوری طورپر ڈاکٹرز ،نرسز، میڈیکل سٹاف اورپولیس فورس سے وابستہ افراد کوجدید حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائے،اگر ریاست نے کروناوبا سے متاثرہ شہریوں کی صحت وتندرستی کیلئے ان پرلاکھوں روپے صرف کئے ہیں توان کی خدمت اورحفاظت پرمامور ڈاکٹرز اور پولیس آفیسرزواہلکاروںکی حفاظت کیلئے بھی خاطرخواہ رقم مختص کر ے ۔

خدانخواستہ اگر ڈاکٹرزاور محافظوں کامورال گرگیا توقاتل کروناکوہراناانتہائی دشوارہوجائے گا لہٰذاءریاست فوری طورپر انہیں جدید حفاظتی مصنوعات اورطبی سہولیات فراہم کرے ۔ہرسرکاری ہسپتا ل اورتھانے کی حالت زاربہترکی جائے ،یہ وہ مقامات ہیں جہاں عوام کاآناجانا لگارہتا ہے لہٰذاءان مقامات میں ہروہ اقدام کیاجائے جس سے ہسپتال اورتھانے کے اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف اورفیلڈ میں سرگرم پولیس اہلکاروں کی مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کیاجائے ۔مراعات براہ راست پولیس لائنز اور تھانوں کے اہلکاروں کو دی جائیں ورنہ وہ محروم رہیں گے۔

ان دنوں گجرانوالہ پولیس کے بدقسمت ٹی/ ایس آئی زین العابدین کی سرطان کے سبب بیچارگی میں موت اور بعدازوفات پنشن سمیت دوسری مراعات سے محرومی کامعاملہ زبان زدعام ہے،میں سمجھتاہوں زین العابدین کو سرطان نے نہیں بلکہ اس کے فرعون صفت حکام کے آمرانہ رویے نے مارا ہے جوفیصلے کرتے وقت سچائی تک رسائی یقینی نہیں بناتے ۔

اگرزین العابدین بیماری اورکمزوری کے سبب ڈی ایس پی کے روبروپیش نہیںہورہاتھا توڈی ایس پی تیمارداری اورتسلی کیلئے اس کے پاس چلے جاتے توآج شایدوہ صحتمنداور زندہ ہوتا ۔زین العابدین کی موت سے پولیس فورس میں صف ماتم بچھ گئی ہے جبکہ اہلکارمایوس ہیں ۔زین العابدین کے غمزدہ ورثاآئی جی پنجاب شعیب دستگیر سے مرحوم کی مراعات اوراس کیلئے انصاف کے خواہاں ہیں۔آئی جی پنجاب اپنے دلبرداشتہ جوانوں کے جذبوں کوتازہ دم کرنے کیلئے فوری طورپر زین العابدین کے معاملے کی شفاف تحقیقات کے احکامات صادر کریں اورجوکوئی قصوروار ہے اس کوسخت سزادیں۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar