Wednesday , July 15 2020

کورونا وائرس کے پیش نظر بھارت نے کرتارپور راہداری کھولنے سے انکار کردیا

دو دن کے نوٹس پر راہداری کھولنا ممکن نہیں ،معاہدے کے تحت یاتریوں کی تفصیلات سفر سے سات روز قبل پاکستان کو دینالازم ہے،بھارتی حکومت

نئی دہلی (اعتماد نیوز) بھارت نے سکھوں کے مذہبی مقام کرتار پور گوردوارہ تک جانے والی سرحدی راہداری کھولنے سے انکار کردیا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنی طرف سے 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے بھارت کو بھی آگاہ کردیا گیا تھا تاہم اب بھارت نے کرتارپور راہداری کھولنے سے انکار کردیا ۔اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں جیسے عبادت گاہیں کھل رہی ہیں ویسے ہی پاکستان کرتار پور راہداری کھولنیکی تیاری کر رہا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر کرتار پور راہداری کھولنے کی تیاری ہے۔لیکن اب بھارت کی جانب سے یہ خبر آئی ہے کہ وہ 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کے حق میں نہیں ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے 29 جون سے کرتار پورراہداری کھولنے کی پاکستان کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام کا کہناتھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کے تحت سرحدوں پر آمد و رفت معطل ہے۔بھارتی حکومت کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ محکمہ صحت کے حکام اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ساتھ ہی بھارت کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو دن کے نوٹس پر راہداری کھولنا ممکن نہیں کیوں کہ معاہدے کے تحت بھارت یاتریوں کی تفصیلات سفر سے 7 روز قبل پاکستان کو دینے کا پابندی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا لیکن کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کرتار پور راہداری پر سکھ زائرین کی آمد و رفت مارچ میں روک دی گئی تھی۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar