Saturday , October 24 2020

کرونا وباء اور اوورسیز پاکستانیوں کی عید

تحریر

محمد عرفان شفیق

عید الفطر درحقیقت مسلمانانِ عالم کے لیے رمضان کے روزے مکمل کرنے کے بعد رب تعالیٰ کی جانب سے انعام رکھا گیا ہے جس میں دنیا کے مسلمان رمضان کے روزے رکھنے کے بعد رب کریم کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اس مرتبہ کورونا وباء کی وجہ سے مسلمانوں کی یہ عید روایتی جوش کے بغیر ہی منائی گئی۔

کویت میں ایمرجنسی کے نفاذ کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جس کے تحت وزارت اوقاف نے تمام مساجد پہلے ہی بند کر دیں تھیں لہذا اس مرتبہ رمضان میں پنج وقتہ نماز خصوصا نماز تراویح کا اہتمام گھروں پر ہی کیا گیا اور عید کی نماز بھی نہ ہو سکی۔ لیکن آزمائش کی اس گھڑی میں بھی مسلمانان عالم نے رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہو کر ملک کویت اور پاکستان کی ترقی اور اس وباء کے خاتمے کے لیے خصوصی دعائیں مانگی۔ کویت میں مقیم پاکستانیوں نے اپنی عید کا احوال جو بیان کیا وہ قارئین کی پیش خدمت ہے۔

اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے خلیل احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ویسے عید کا مزہ تو اپنے دیس میں ہی آتا ہے پہلے بھی عید پردیس میں کرنے کا موقعہ ملا دوست احباب کے ساتھ عید کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد دوستوں سے عید ملنے کا موقعہ مل جاتا تھا تمام دوست صبح کا ناشتہ مزیدار نہاری اور پائے کے ساتھ کرتے اور مزیدار سویاں کھاتے تھے مگر اس دفعہ کرونا وباء نے رمضان کے ساتھ ساتھ عید کا مزہ بھی کرکرہ کر کے رکھ دیا اس مرتبہ نا تو عید کی نماز مسجد میں ادا کرنے کا موقعہ ملا اور نا ہی دوستوں عزیزوں سے ملاقات کا موقعہ مل سکا۔ واٹس ایپ کے ذریعے ہی دوستوں اور عزیز رشتہ داروں کو عید کی مبارک باد دی۔ یہ میری زندگی کی پہلی ایسی عید ہے جو پردیس میں کرنے کا بالکل بھی مزہ نہیں آیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے جلد اس کرونا وباء سے نجات ملے۔
سماجی کارکن سلمان خان کا کہنا تھا کہ عيد کا مزہ تو اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس بار کرونا کی وجہ سے ہم اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے اور تو اور اس بار تو دوستوں کے ساتھ معروف مقامات کی سیر پر بھی نہیں جا سکتے اصل عید تو وہ ہے جو اپنے پیاروں کے ساتھ گزاریں، لہٰذا عید کے موقع کے علاوه بھی اپنے دیس جانا ہر عید سے کم نہیں ہوتا.
موٹیویشنل اسپیکر قیصر مختار راجپوت کا کہنا تھا کہ آجکل جیسے کہ سبکو معلوم ہے کہ ہر طرف کرونا وباء ہے اور عید وباء کے ماحول میں آئی ہے۔ یہ عید دوسری عیدوں سے قدرے مختلف تھی جہاں ہم عید کی نماز پڑھنے کے بعد ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے تھے اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی تھیں۔ اس عید کے موقع پر ہر طرف ایک ڈر کا سماں تھا اور عید کا تمام عرصہ گھر پر ہی گزر گیا۔ ہم رب تعالیٰ کے حضور دعا گو اور پرامید ہیں کہ انشاء اللہ آئندہ خوشیوں والی عیدیں آئیں گی۔

اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے انعام مورگانائیٹ اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی کو کبھی کویت میں چند سال گزارنے کا تجربہ رہا ہو اور اسنے کویت میں رمضان المبارک گزارا ہو تو اس کو یہ سمجھانا قطعی مشکل کام نہیں ہے کہ جو مزہ اور لطف کویت میں روزے گزارنے کا ہے وہ شاید ہی مملکت خدادا سمیت دنیا کے کسی اور حصے میں آتا ہو کویت میں رمضان کے روزوں کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہیں۔ حالانکہ میں خود باوجود کوشش کے کویت میں آدھا رمضان ہی گزار پاتا ہوں، پھر باقی ماندہ روزے پیارے وطن میں گزرتے ہیں مگر کوشش بہرحال رہتی ہے کہ رمضان المبارک کویت میں گزارا جائے۔ اسکی بڑی وجوہات میں شاید یہاں کی سہولیات، انواع اقسام کے مناسب کھانے ہیں یا موسم کی سردی یا گرمی ہمارے اوپر کچھ اثرانداز نہیں ہو پاتی، سرد ہو یا گرم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس ایک عجیب سا سماں بندھ جاتا ہےایسا محسوس ہوتا کہ تجلیوں کا نزول جاری و ساری ہوگیا ہے عجیب سی کیفیت اور تقوی کے حصول کی جدوجہد اور مسجد کی طرف دوڑ لپک۔۔کہیں نماز جماعت سے رہ نہ جائے اور تراویح و قیام اللیل کے اہتمام کے دوران عبادت بھی اور سوشل رابطوں کا ایک سلسلہ بھی قائم ہو جاتا ہے نیک اور نیکی کے راہ کے نئے مسافروں سے ملاقاتیں ہو جاتی ہیں پھر ان مستقل رابطوں سے ہمیشہ کے تعلق بن جاتے ہیں۔

کویت میں آفس ٹائمنگ کم اور ریلکس ہونے کی وجہ سے قیام و صیام کے لیے دل و دماغ اور جسم بڑی حد تک آمادہ عبادت رہتے ہیں۔ عام دنوں کے مقابلے میں اتنی ساری دوڑ دھوپ کے باوجود آدمی قدرتی توانائی محسوس کرتا ہے اور پھر سونے پہ سہاگہ آخری عشرے میں اگر عمرہ کرنے کا موقع ہاتھ لگ جائے تو اس موقع کو کون بدبخت ہے جو ہاتھ سے جانے دے گا۔ ہمارے لیے کویت میں رہتے ہوئے یہ قدرے آسان ہے، اس نفلی عمرہ سے پورے ماہ کی عبادت کو عروج حاصل ہو جاتا ہے اور اس سے رمضان کے اختتام پر عبادت کی بریکٹ کلوز کرتے ہوئے دل مزید سرور اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ کویت میں رمضان کی عید تک افطار یوں کا حساب کتاب رکھنا بھی ایک اچھا خاصا کام ہے ایسا نہ ہو کہیں جانے سے رہ جایئں اور میزبان کی ناراضی مول لینی پڑ جائے مگر اس دفعہ کرونا نے زندگی کا طور ہی یکسر بدل ڈالا عجیب رنگ لیے اب کے رمضان آیا ۔

پوری دنیا کی طرح کویت کی دنیا بھی اپنے مقام پر سکڑ کر رہ گئی کہاں کی افطاریاں کہاں کے ملاقاتیں ۔۔۔ سب کچھ بند ہوگیا ایک سناٹا ۔۔۔مکمل خاموشی۔۔۔جس نے باہر کی دنیا ہی نہیں اندر کی دنیا کو بھی ہلا ڈالا اس دفعہ خضوع سے زیادہ خشوع نے رگ و پے میں سراسمیگی پھیلا دی۔ موت کا ڈر اور خوف انسان کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں کم یا زیادہ رہتا ہی ہے مگر اس قدر قریب سے یہ خوف پہلی بار محسوس ہو رہا تھا اس خوف نے ایک اور انجانے خوف کو جنم دیدیا کہ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى (40) اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا۔” اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے احساس نے دل کو ہلا دیا کیا ہے تمارے دفتر عمل میں جس کو پیش کیا جا سکتا ؟ کیا ہے جس سے بچت کا کوئی معاملہ نکل آئے ۔۔ اللہ کا سامنا کیسے ہوگا ؟ حساب کیا تو وجود لرزنے لگا ، کیا اب تک کی زندگی جو گزری اسکا کوئی علم یا عمل اللہ کی رضا کا مؤجب بن سکے گا ؟؟

ہم دنیا بھر کو اپنے جھوٹ سچ کی آمیزش سے منا سکتے ہیں مگر وہاں کیسے منائیں گے ؟جہاں سچ اور جھوٹ سب کچھ کھل جائے گا ۔۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا مجھے سر سید احمد خان کی وہ بچپن کی کہانی یاد آگئی جس میں خواب میں وہ دیکھتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہوکر مر جاتے ہیں اور اعمال پیش ہوتے ہیں تو انکو بہت پچھتاوا ہوتا ہے کہ زندگی رائیگاں گئی مگر یکلخت انکی آنکھ کھل جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں ایک تو یہ کہ شکر ہے محض یہ ایک خواب ہی تھا دوسرا یہ کہ کچھ اچھا کرنے کی ابھی انکی پوری عمر پڑی ہے ۔ابھی سے کچھ کیا جا سکتا ہے یعنی موقع ابھی ہے۔ کرونا تیرا شکریہ کہ تو نےموت کے خوف کے ذریعے سے ہی سہی دلوں میں چٹانوں کی سی سختی کو گدا ز میں بدل ڈالا ،بے رحمی اور “میری مرضی”والی زندگی میں سوچنے کا اور اپنے رب کی طرف پلٹ آنے کا موقع فراہم کر دیا اس لحاظ سے پیشگی معذرت کے ساتھ تو یہ کہا جا سکتا ہے “کرونا تیرا شکریہ” ۔

کویت میں کوئی کسی بڑی پوسٹ پر ہو یا عام سا مزدوری کرنے والا ،ہم سب پردیس میں رہنے والوں کی کہانیاں کم و بیش ایک سی ہیں اور اب کرونا نے تو ویسے ہی سب محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے یہ وباء کسی امیر غریب ، نیک و بد کی تفریق کے بغیر گھستی چلی آ رہی ہے۔ آئے دن خبریں مل رہی ہیں کہ اتنے لوگ کرونا وباء کے باعث شہید ہوگئے اب کے عید پر شاید ہم روایتی طور پر اپنے پیاروں کےگلےبھی نہ لگ سکیں اور پھر کچھ چہروں کو جب نظریں تلاشیں گی تو ان میں سے بہت سارے چہرے ناپید ہونگے بہت سارے دوست جو پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے اس رمضان میں منوں مٹی کے نیچے مدفون ہو گئے ایسی تنہائی اور بے چارگی کا یہ عالم — اس عید کو اس لحاظ سے ایک عجب یادگار عید بنا دیگا کہ بقول شاعر اک نگاہ آشنا کا آسرا جاتا رہا آج ہم تنہائیوں میں اور تنہا ہو گئے تیرا ملنا اور بچھڑنا کیا کہیں کس سے کہیں ایک جان ناتواں پر ظلم کیا کیا ہو گئے متقین اور اہل خرد کے ذہنوں میں نقش ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے ساتھ ایسا سچا وعدہ کیا ہے وہ وعدہ یہ ہے کہ ہر مشکل کےساتھ آسانی، ہر تنگی کے ساتھ فراخی اور ہرکرب کے پہلو میں کشادگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا – الم نشرح: 5، 6’’ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے یہ ماہ مبارک اس لیئے سایہ فگن ہوا جس میں حصول تقوی کی کوشش کرنے کا کہا گیا ہے تمام عمر کی عبادت ‏‎کی بنیاد ایک چیز ہے اور وہ ہے تقویٰ، جوبہترین زاد راہ اور اللہ سے ملاقات کی بہترین تیاری کا دوسرا نام ہے۔ ‏‎ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے ہر مسئلےکا حل نکل آتا ہے. بس ہمت صبر اور سب سے بہترین خاموشی سے اپنے رب سے رجوع کیا جائے اس موقع کو غنیمت جانیے اور دل کی اس خوفزدہ کیفیت کو تھوڑا اور مذید طاری کر لیجئیے اور اپنے رب سے تنہائی میں ملئیے اگر ہوسکے تو یہیں معاملہ نمٹا لیں ابھی معافی تلافی کرلیں پتہ نہیں پھر موقع ملے یا نہ ملے، میں ایسے بہت سارے دوستوں کو جانتا ہوں جو پچھلے رمضان میں ہمارے درمیان موجود تھے مگر اب نہیں ہیں ‏‎اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو دنیا کی اور آخرت کی بہترین خوشیوں سے نوازیں .الھم آمین یا رب العالمین

انجینیئر شہزاد احمد منہاس کا کہنا تھا کہ دیار غیر میں ہم پہلے بھی عیدیں مناتے ہیں لیکن اس بار کی یہ عید ہم سب کو ہمیشہ یاد رہے گی ُنا صرف ہمیں بلکہ ہماری آنے والی نسلیں تک یاد رکھیں گی کہ کیسے اک ناگہانی وبا نے پوری دنیا کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا اور ہمیں یہ عید گھروں میں محسور ہو کر گزارنی پڑے گی، نہ عید کی نماز کسی مسجد میں ہو گی نہ کسی نے کسی قسم کی شاپنگ کی نہ لوگوں کا بازاروں میں رش نہ بچے باہر جائیں گے اور نہ ہی کوئی کسی کی دعوت کا اہتمام کرے گا۔ اللہ سے دعا ہے کے اس کرونا مرض سے ہم سب کو جلدازجلد نجات عطا فرماے تاکہ زندگیاں واپس اپنے ٹریک پر آجایں آمین

چیف ایگزیکٹو پاکستانیز ان کویت۔ عاطف صديقى کہتے ہیں کہ عید ایک ایسااسلامی تہوار ہے جو روزوں کے انعام کی صورت میں ملتا ہے۔ سارا عالم اسلام بہت جوش و خروش سے تیاریوں کے سا تھ مناتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں، ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کہیں باہر گھومتے ہیں، ہر طرف خوشیوں اور جشن کا سماں ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ سماں ہوتا تھا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی دی گئی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے عید۔ دیار غیر کی عید اداسیوں کا پیغام تو لاتی ہی تھی کیونکہ جو دیس کی عید ہے، اس کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔ مگر اس بار کی عید بہت اداسی اور حقیقتوں کا آشکارہ بن کر آئی۔ رمضان بھی اپنی رونقوں اور مساجد نماز و تراویح سے محروم رہیں گو کہ گھروں میں پڑھا گیا سب کچھ مگر وہ محبتیں جو مل کر بانٹیں جاتی تھیں آج کل کے حالات کے پیش نظر دعاؤں میں بانٹیں گئیں۔
آنکھوں میں اداسی اور امید دونوں کا یکساں سماں لے کر آ ئی یہ عید۔
نہ ہی کوئی رونق نہ نت نئے لباسوں کی خریداری نہ قمقموں سے سجے بازار نہ نئے نئے ذائقے دار کھانوں کی خوشبوئیں اور نہ ہی گلے مل کر دی جانے والی عید کی مبارکبادیں۔
عید تو پھر بھی عید ہی رہی چاہے حالات جیسے بھی ہوں، اللہ کا انعام ہے عید الحمد للہ اس ذات کا جس نے ہمیں یہ رمضان اور عید جیسی نعمت ایک بار پھر عطا کی گو کہ دل بوجھل رہا ان لوگوں کے لئے جو اس دنیا سے رمضان میں اس وبا کی وجہ سے رخصت ہوئے مگر لب ان کے لئے دعاؤں سے معطر رہے اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کریں اور ان کے لواحقین کو خوبصورت صبر دیں آ مین۔
ہر سال رمضان آتا ہے مگر ہمارے بہت سے پیارے نہیں ہوتے ہمارے درمیان کیا پتہ اگلے سال ہم ہی نہ ہوں تو دوستوں رمضان مہمان نہیں ہے اصل میں انسان مہمان ہے۔
ہم سب نے یہ عید گھر میں گزاری سب سے تو محبتیں فون پر بانٹ لیں اور گھر کے لوگوں سے آ پس میں مل کر اداسی بہرحال رہی اس وباء کی وجہ سے.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس وباء سے محفوظ رکھیں آ مین.

پاکستان بینکنگ اینڈ فنانس پروفیشنلز ان کویت کے صدر محمد طاہر بشیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسی جذبے کے تحت ناچیز نے بھی اپنی تنظیم پاکستانی بینکنگ اینڈ فائنانس پروفیشنلز ان کویت کے صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے تنظیم کے ارکان کی مشکل کی اس گھڑی میں ضرورت مند افراد کی مدد کے جذبے سے بھرپور کردار ادا کرنےکی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے میدانِ عمل میں آکر کویت میں مقیم ضرورت مند افراد کی سفارتخانہ پاکستان کی سرپرستی میں مدد کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تنظیم کے باقی ساتھیوں کے ساتھ ملکر کوشش کی۔ اسی اثناء پاکستان میں بھی کوشش کی کہ ضرورت مند افراد کو مدد پہنچائی جاسکے اب جبکہ کرونا کی اس وبا کی وجہ سے رمضان کی رونقیں ماند تھیں عید کی آمد بھی خاص طور پر معاشرے کے اُن طبقوں پر گراں ہی گزرے گی اور اس پس منظر میں دل ِناچیز بھی عید کی حسبِ روایت خوشیوں سے لطف اندوز نہ ہو سکے گا لیکن عید کی خوشیوں کو دو بالا کرنے کے لئے اگر ہمارے دین کی رہنمائی میں نچلے طبقے کے ساتھ بہترین سلوک کے سبق کے پیشِ نظر میں سوچتا ہوں کہ ہمیں عید کی خوشیاں انکے نام کر کے عید بسر کرنی ہے اور میرے ایک بہت ہی پیارے بھائیوں جیسے دوست سعید احمد بھلی صاحب کے مطابق اس دفعہ عید الفطر پراپنے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدنے کی بجائے عہد کرنا چاہیے جن پیسوں سے ہم اپنے لئے خوشیاں خریدتے ہیں اُن پیسوں سے اپنے کِسی غریب بھائی کے لئے عید کے دن کے کھانے کےلئے خریداری کریں اور چاند رات کو تحفہ کے طور اپنے اُن بھائیوں کو پہنچائیں یقیناً اس کام سے ہمیں بہت زیادہ اجر اور دلی سکون ملے گا اور عید کا مزہ بھی دو بالا محسوس کریں گئے بس کرونا وبا کی وجہ سےجہاں بہت محرومیاں پیدا ہوئیں وہیں عیدکو اس کی اصل روح کو زند کیا کہ عید کو دوسروں کے لئے گزارا جائے گا انشاءاللہ العظیم
پاکستان تحریک انصاف کویت چیپٹر کے محمّد فیصل کا کہنا تھا کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے شہریوں کی طرح ہم کویت میں رہنے والوں کے لیے بھی لاک ڈاؤن کی اصطلاح اور تجربہ بالکل نیا تھا۔ حکومتِ کویت کی جانب سے لاک ڈاؤن کیے جانے کے بعد مجھے پہلی حیرت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب میں نے گھر سے دفتر جانے کے لیے خصوصی اجازت نامہ حاصل کیا اور گھر سے نکلتے ہی اپنے گنجان آباد علاقے کو ویران و سنسان دیکھا۔ خیر اگلے چند روز صورتِ حال کو سمجھنے اور پابندی کے اطلاق کی حدود کو جاننے میں لگے۔ پھر ہمیں معلوم ہو گیا کہ بس جو بھی خریداری کرنی ہے شام چار بجے سے پہلے ہی کر لیں اور اپنی ذائقے کی حس کو بھی صبح ہی جگا کر پوچھ لیں کہ آپ شام یا نصف شب میں کیا تناول کرنا پسند فرما سکتی ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ لاک ڈاؤن مکمل کرفیو میں بدل گیا۔ اس دوران کویت میں وہ مناظر دیکھے جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ روشنیوں سے جگمگاتی مساجد، شاپنگ مارکیٹس، رمضان کریم کے جگمگاتے فانوس، رمضان اور عید کی شاپنگ کی گہما گہمی وغیرہ کچھ بھی نظرنہ آیا، جن بازاروں میں کبھی تل دھرنے کی جگہ نہ ملتی تھی رمضان المبارک میں ان کی تنہائی اور خاموشی ڈرانے لگی تھی۔

رمضان المبارک اسلامی کیلینڈر کا نواں اور بابرکت مہینہ ہے اس سال یعنی ٢٠٢٠ میں اس عظمت والے مہینے کی شروعات زیادہ تر ممالک میں جمعہ کو ہوئی۔ دنیا میں کروڑوں مسلمان رواں برس رمضان کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر ذرا مختلف انداز میں منا رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وبا سے نمنٹنے کے لیے تمام ممالک نے کچھ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن میں مساجد اور دیگر عبادت خانوں کو بند کیا گیا ہے، اجتماعات پر پابندی عائد ہے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات کے علاوہ مجبوری کے عالم میں بھی گھر سے نکلنے کے لیے حفاظتی اقدامات مکمل کر کے گھروں سے نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مساجد سے ہر نماز کے وقت الله کی کبریائی کا اعلان کرتے ہوئے موذن دکھی دل سے یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ نمازیں اپنے گھروں میں ادا کریں۔ رمضان المبارک کا ایک خاص مزاج خاص روایت ہوا کرتی ہے، جب دنیا کے ایک ارب پچاسی کروڑ مسلمان قبل طوع سحر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں، مسلمان جوق در جوق مساجد کا رخ کرتے ہیں، رشتہ دار اور دوست احباب مل کر روزہ افطار کرتے ہیں اور باجماعت نماز، باجماعت تراویح و صلوتہ قیام اللیل ادا کرتے تھے۔ لیکن اس برس ہم نے یہ مقدس مہینہ گھروں میں رہ کر گزارا۔ کورونا وائرس نے چند ہی ماہ میں دنیا بدل کر رکھ دی ہے۔ اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہو چکی ہیں، دوستوں اور عزیزوں سے میل ملاقات بھی بند ہے لیکن شکریہ اس ٹیکنالوجی کا کہ ہماری ‘ورچوئل’ ملاقاتیں کبھی کبھی ہو جاتی ہیں۔ اب ہم مختلف اپلیکیشنز کے ذریعہ اپنے دوستوں عزیزوں سے ملاقات اور دیگر تقاریب میں ‘غائبانہ شرکت’ کر رہے ہیں، آن لائن مشاعرے، آن لائن محافل ذکر و نعت، آن لائن میٹنگز اور درس قرآن و حدیث سے بھی فیض یاب ہو رہے ہیں، امید واثق ہے کہ ہم آپ کو عید الفطر کی مبارکباد بھی اسی طرح اپنے کمپیوٹر یا موبائل سے ہی دیں گے۔

دنیا کے مختلف ممالک خاص طور پر جہاں کورونا کی وبا سے بہت ہلاکتیں ہوئیں ہیں وہاں اس بار خوشیوں اور تقاریب کو منانے کے بجائے اداسی کی فضا ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ یہ سال ٢٠٢٠ وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے تاریخی قرار پائے گا اور وقت ایسی کروٹ لے گا کہ دنیا اس سال کو کورونا کی وجہ سے یاد رکھے گی۔ گزشتہ چند ماہ میں پوری دنیا نے اس وبا کے باعث بہت نقصانات اٹھائے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس بیماری میں اپنی زندگی ہار بیٹھے ہیں۔ بہت سے گھرانے اپنے پیاروں کے چلے جانے سے غمگین ہیں تو کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ یہ رمضان گزشتہ رمضان کی نسبت خاصا مختلف گزرا، نہ کوئی رونق ہے نہ کوئی سرگرمی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اثر ذہنوں پر اتنا پڑا ہے کہ اس مہینے کی پرجوش روایتیں کچھ ماند پڑ گئی ہیں۔ میرے بڑے بھائی بتا رہے تھے کہ گزشتہ برس ان ہی دنوں میری(بھائی کی) درزی سے اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اب وہ مزید کوئی سوٹ کیوں نہیں سی سکتا کیوں کہ اس کے بقول تو ١٠ رمضان تک بکنگ بند ہوگئی تھی۔ اب یہ حال ہے کہ درزی کا روز ہی فون آ رہا ہے کہ کوئی سوٹ ہے تو دے دیں تا کہ میں کچھ کما سکوں۔ لاک ڈاؤن سے دکان بند ہے اور گھر کا چولہا چلانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ان حالات میں کیا عید منائیں؟ کیونکہ ہر ایک کی ضرورت تو ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ وہ دکان دار جو رمضان کا سارا سال انتظار کرتے تھے کہ اس ماہ وہ کوئی اسٹال لگائیں یا کوئی بھی مال بیچیں گے تو منافع ہو گا۔ وہ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ نہ جانے ان کا گزارہ کیسے ہو رہا ہو گا؟ سالوں سے ہمارے گھر میں کام کرنے والی آنٹی نے بھی پہلی بار وہ کہا جو پہلے کبھی سنا ہی نہیں تھا کہ “مجھے عید کا جوڑا نہیں چاہیے، بس راشن دے دیں، تاکہ بچوں کی عید گزر جائے” کرونا وائرس نے جہاں سماجی فاصلے بڑھائے ہیں وہیں اپنوں کو ایک دوسرے کے قریب بھی کیا ہے۔ اس سال عید کا پیغام یہی ہے کہ سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جذباتی فاصلوں کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم ایک دوسرے کے حالات جان سکیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھ سکیں اور ممکن ہو تو دوسروں کے کام آ سکیں، کوشش ضرور کریں، آپ کی وجہ سے کسی کے بچوں کو عید کے دن کھانا مل جاۓ جو لوگ اس وبا کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے الله آپ کو اور مجھے ان کا مدد گار بنا دے، بے شک الله ہی بہتر مدد گار ہے مگر الله عزوجل آپ کو اور مجھے ان کا وسیلہ بنا دے۔ آمین۔ تمام احباب کو عید مبارک

محترمہ صائمہ رانی کا جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رمضان کے بعد عید کا دن ہمارے لیے خوشیوں اور مسرتوں بھرا پیغام ہوتا ہے ہر سال اس دفعہ بھی رمضان کے روزے رکھے اور عید کے دن کا انتظار کیا لیکن اس بار عید ہمیشہ کی عید کی طرح نہیں تھی ۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی صاف ظاہر تھی نا عید کی نماز کے لیے مسجد کا رخ کیا، نا دوستوں رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی، نا وہ پکوان بنے جو ہمارے ہاں خاص طور پر عید پر بنتے ہیں اور دوست رشتہ دار اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اس دن بس ایک اداسی تھی اور ان حالات میں چھپی اللہ کی حکمت جو کرونا وائرس کی شکل میں تھی۔ بے شک میرا رب بہتر جانتا ہے کہ یہ حالات ہمارے اعمال کی سزا ہیں یا اس میں ہماری بہتری ہے ۔ دونوں صورتوں میں ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ بے شک وہی غالب حکمت والا ہے ۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar