Saturday , October 24 2020

کرونا وائرس کی آڑ‌میں پولیس کا ناکوں پر بے نامی فنڈ ریزنگ

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیرایکشن لیں

قمر جبار

دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی پذیر ممالک سے غربت کے خاتمے اور انفراسٹکچر کی بحالی کے لئے ورلڈ بینک اور ?ائی ایم ایف جیسے ادارے وجود میں آئے۔ فرانس وہ پہلا ملک تھا جس نے ان اداروں سے قرضہ لیا اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہوا۔پاکستان بھی ان عالمی مالیاتی اداروں سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ ایک سو گیارہ ارب ڈالر کا قرض لے چکا ہے لیکن ابھی بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوا۔ کرونا کے بڑھتے ہوئے پھیلاو¿ کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان انہیں اداروں اور ترقی یافتہ ممالک سے پسماندہ ممالک کی مدد کے لئے اپیل کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کچھ دوست ممالک نے پاکستان کی مدد کا اعلان بھی کیا ہے لیکن ملکی معاشی حالات کے پیش نظر یہ امداد نا کافی ہے۔ وزیراعظم شائد یہ نہیں جانتے کہ وفاق کی طرف سے اعلان کردہ آٹھ ارب ڈالر کے ریلف پیکچ کے متوازی بھی ایک بےنامی کرونا احساس پروگرام ریلیف فنڈ چل رہا ہے۔ جس کا پیسہ کہاں جائے گا کچھ معلوم نہیں۔

میرے ایک دوست کا فون آیا اور کہنے لگا کہ ہمارے محلے کی جلال بی بی آجکل بڑی مہربان بنی پھر رہی ہے۔ اچھا پکاتی ہے، اچھا کھاتی ہے اور محلے کے بھی ایک دو غریب گھرانوں کو کھانا بہم پہنچا رہی ہے۔ کہتی ہے کہ لڈو کے ابو کی آجکل ایک ناکے پر ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ ڈبل سواری، بلاجواز گھر سے نکلنے والوں، اشیائے ضروریہ کا سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے مزدا اور پک اپ کو تو وہ معاف ہی نہیں کرتے۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت کوئی جو کچھ بھی دے وہ لے لیتے ہیں اور جو نہ دے اسے قانون کے شکنجے میں کس دیتے ہیں۔ سرتاج سمجھدار بھی بہت ہیں، تیرہ سو سی سی یا اس سے بڑی گاڑی کو وہ نہیں روکتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان گاڑیوں میں یا کوئی مستحق یا مستحقین کی مدد کرنے والا سفر کر رہا ہو گا۔ لڈو کے ابو کی میں بھی بہت خدمت کر رہی ہوں ، روز انکی وردی دھو کر استری کرتی ہوں۔ بے چارے اس گرمی میں بہت محنت کر رہے ہیں۔ اگر ایک دو ماہ تک لاک ڈاو¿ن رہا تو عید اور عید قرباں بھی اچھی گزر جائے گی۔

دوست کا فون بند ہوا تو میرے دماغ میں گھنٹیاں بج اٹھیں۔ خیال آیا کہ چمبیلی کے بھائی کا بھی پتہ کیا جائے ضرور وہ بھی کوئی گل کھلا رہا ہو گا۔ ابھی تین سال پہلے ہی ڈولفن فورس میں بھرتی ہوا ہے۔ خبر ملی کہ وہ صاحب بھی دوستوں میں مفت سگریٹ کے پیکٹ بانٹتے پھر رہے ہیں اور چمبیلی، بسکٹ، نمکو، چپس اور گولیاں ٹافیاں محلے کے بچوں پر ایسے لٹا رہی ہے کہ جیسے سیلاب زدگان کے کیمپ میں مخیر حضرات کار ثواب کے لئے راشن تقسیم کرتے ہیں۔ کہتی ہے کہ اسکا بھائی رشوت نہیں لیتا۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران مہنگے داموں اشیاٰ بیچنے یا مقررہ وقت پر دکان بند نہ کرنے والے احساس کفالت پروگرام کے تحت اگر کچھ مہربانی کر دیں تو وہ انکار نہیں کرتا۔

ذہین میں کچھ حقیقت واضع ہوئی کہ لاک ڈاو¿ن کے دوران کس طرح سفید پوش طبقے کو لوٹا جا رہا ہے۔ معلومات کی غرض سے کریانہ اسٹور گیا اور سرکاری ریٹ پر آٹے کا تھیلا طلب کیا۔ کرم دین بولا کہ جناب ?اٹھ سو پچاس کا ملے گا۔ ابھی صبح ہی مریدکے فلور مل سے کنٹرول ریٹ پر ?اٹے کے تھیلے مزدا پر لوڈ کرائے لیکن راستے میں۔۔۔۔اتنا کہ کر اس کی بریک لگ گئی۔ یہی حالات قصاب نے بتائے کہ جگہ جگہ گوشت کی کوالٹی احساس پروگرام کے تحت چیک ہوئی۔ سو گائے کا گوشت پانچ کو پچاس کی بجائے چھ سو روپے کلو ملے گا۔

جذبات میں آکر وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کو واٹس ایپ میسج کیا کہ جناب کوئی ایکش لیں یہ ناکوں پر کون سی بے نامی فنڈ ریزنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن افسوس کوئی جواب نہ آیا۔ اب غصے میں آکر وزیر اطلاعات پنجاب کو فون کیا۔ ان سے سناشائی ہونے کی وجہ سے فورا کھری کھری سنائیں کہ فیاض الحسن چوہان صاحب، آل شریف کے خلاف بیانات داغتے ہوئے آپکی گردن کی رگیں پھولتی ہوئی میں نے خود دیکھی ہیں۔ آپ تو اسٹوڈینٹ لیڈر بھی رہ چکے ہیں ذرا موٹر سائیکل پر ناکوں کا چکر تو لگائیں اور دیکھیں کہ آپ سے کتنا فنڈ مانگا جاتا ہے۔ امید ہے کہ کسی نہ کسی ناکے پر ?اپ کسی اعلی افسر کی کلاس بھی لیں گے۔

وزیر اعلی پنجاب کو بھی پیغام بھیجا ہے کہ عثمان بزدار صاحب ا آپ پر تو اپوزیشن تنقید کرتی رہتی ہے کہ صوبائی معاملات چلانے میں ?اپ کا کوئی تجربہ نہیں۔ خدارا موجودہ حالات میں سلطنت اسلامی کے حکمرانوں کی طرح بھیس بدل کر باہر نکلیں۔ بھوک سے بلکتے ہوئے کسی بچے کی آواز پر بیشک دھیان نہ دیں لیکن شہر میں لگے ناکوں پر اکھٹا کئے جانے والے بے نامی احساس کفالت فنڈ کی خبر لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فنڈ نیچے سے لیکر اوپر تک ان حکام تک بھی پہنچ جائے جنھیوں نے بینظیر انکم اسپورٹ فنڈ کا پیسہ بھی اپنے لئے حلال سمجھا۔ ایسا نہ ہو کہ غریب لٹ جائے اور روز محشر کٹہرے میں آپ ہوں۔

قمر جبار ایک سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے انگلش، اردو اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان کا دس سال کا الیکٹرونک میڈہا کا بھی تجربہ ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں اور بےباک تبصرے قارئین کی توجہ کا ہمیشہ مرکز رہے ہیں۔ ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.
qamar1200@hotmail.com


About

Leave Comment

Skip to toolbar