Saturday , October 24 2020

کرونا وائرس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل دیا، اب غیر اعلانیہ عالمی جنگ کا مرکز بحرالکاہل ہو گا

کرونا وائرس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل دیا، اب غیر اعلانیہ عالمی جنگ کا مرکز بحرالکاہل ہو گا

مظفر جنگ

کرونا وائرس ایک ایسا خطرناک ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے جس کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت ہے۔ اس نے عالمی اسٹریٹجک توازن کو تبدیل کرنے کے لئے ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے اور غیر معمولی انسانی مصائب کے علاوہ عالمی اسٹریٹجک تسلط کے لئے واقعات کا ایک اور سلسلہ شروع کیا۔ پہلے اور دوسرے عالمی جنگوں کے دور میں ، فوجی قوتوں کے استعمال اور اعلان جنگ کو اس کو عالمی جنگ قرار دینے کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کو ایک ایسی ریاست سے تعبیر کیا جاتا ہے جہاں ایک قوم طاقت کے ذریعے اپنے حق پر مقدمہ چلاتی ہے۔ اسی طرح کولنز انگلش لغت کے مطابق؛ ایک عالمی جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں پوری دنیا کے ممالک شامل ہیں۔ جدید دور میں ’فورس‘ کے معنی سخت طاقت سے آگے بڑھ چکے ہیں ، جس میں استعمال کے بہت سے آلات اور جہت موجود ہیں۔ اس سے قبل کی عالمی جنگوں کے دوران ، اسٹریٹجک مقاصد کلیدی علاقوں پر قبضہ کرنا یا سیاسی قیادت / دشمنوں کی مرضی کے حوالے کرنا تھے۔ موجودہ دور میں اسٹریٹجک مقصد مخالفوں کے معاشی خاتمے کے گرد گھومتا ہے ، معیشت اور لوگ دشمن کی کشش ثقل کا مرکز بنتے ہیں ، جس کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے
کروناوائرس وبا پھیلنے سے پہلے ہی کیا ہم عالمی جنگ کی حالت میں تھے؟
اگر ایک عالمی طاقت کی تباہ کن صلاحیت کو دیکھا جائے تو دوسری عالمی طاقت آپس میں مل کر ایک باہمی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی طرح تیسری عالمی جنگ کا کوئی چانس نظر نہیں آتا کیونکہ یہ سب عالمی طاقتیں جانتی ہیں ایسی کوئی بھی جنگ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔” فورس“ کے استعمال کی صلاحیت کی پیمائش عالمی طاقتوں کے جامع نیشنل پاور (سی این پی) کے حساب سے کی جائے گی۔ اس میں معیشت ، عسکری طاقت (جوہری صلاحیت سمیت) ، اسٹریٹجک پوسٹنگ ، فارن پالیسی / ڈپلومیسی ، گورننس ، ہیومین ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) ، تکنیکی صلاحیت ، علمی معلومات ، جغرافیہ ، قدرتی وسائل ، قومی مصمم ارادہ او ر مظبوط قیادت شامل ہیں۔ مذکورہ جامع نیشنل پاورکے سبھی اجزاء جن کا اوپر ذکر آیا ہے اس میں سب سے زیادہ بااثر جز کسی بھی ملک کی معاشی طاقت ہے اور یہی وہ واحد فورس ہے جو باقی اجزاءکو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہم نے گذشتہ ایک سال سے دیکھا ہے کہ دو طاقتور اقتصادی ممالک امریکہ اور چین میں تجارتی جنگ کا آغاز ہوا۔ بحرالکاہل میں دونوں طاقتیں اپنی اپنی پوزیشنوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ امریکہ اور چین سمندری پانیوں پر قابض ہونے اور پہلے سے موجود قبضے کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔اسی طرح میجر جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد امریکہ اور ایران روایتی طاقت کو استعمال میں لے کر آئے اور ایک ایسا لمحہ بھی آگیا جب دونوں ملکوں کے درمیان روایتی جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی تھی۔
اگر روایتی قوتوں کے استعمال کے تمام معاملات آپس میں منسلک ہوجاتے ہیں تو دنیا بھر کے تنازعات پر محیط دو مخالف اتحاد منظرعام پر نمودار ہوتے ہیں ۔ پہلا اتحادامریکہ ، اسرائیل ، سعودی عرب ، جنوبی کوریا ، جاپان اور دوسرا چین روس، شمالی کوریا، ایران اور شام کی شکل میں سامنے آتا ہے اور باقی ممالک بھی انہیں دیکھ کردنیا میں اپنا توازن بنانے میں لگے رہتے ہیں۔
خلائی جنگ نے بھی ایک خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ ہر ملک اس تیاری میں لگا ہوا ہے کہ وہ دوسرے ملک کے خلائی اثاثوں کو ختم کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
ہر ملک اپنے میسر وسائل کو بروئے کار لا کر دوسرے ملک کے اندر مداخلت کر رہا ہے جس میں لوگوں کے اندر غلط اطلاعات کی ترسیل، انتخابی مداخلت ، سائبر وار ، معاشی اور اہم فوجی نیٹ ورک کی ہیکنگ، میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال بھی شامل ہے۔ کمزور ملکوں کو سفارتی دباو¾ میں لایا جاتا ہے۔معاشی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ نیوکلئیر ہتھیار وں کا ڈر پیدا کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رضامندی کے بغیر کثیرالاقوامی قوتوں کو متحرک کیا جاتا ہے۔ پروکسی جنگوں کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ دہشتگردی کو ایک ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اگر دونوں عالمی جنگوں کی ہلاکتوں کو بھی اکٹھا کردیا جائے تب بھی موجودہ تنازعات میں ہونے والی تباہیوں کے برابر نہیں۔
دنیا تیزی کے ساتھ تنازعات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چین کا بحیرہ جنوبی چین جیسے علاقے پر قبضہ، لاتعداد اموات اور معاشی تباہی لہذا اس کو سرد جنگ کا نام دینے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔
COVID-19 سے پہلے ہی عالمی صورتحال میں عالمی جنگ کا ہر عنصر موجود تھا سوائے اس کے کہ سوچ وچار ، آلات اور طریق کار تبدیل ہوگئے تھے اور جنگ کا ‘باضابطہ طور پر اعلان’ نہیں کیا گیا ہے لہذا اس کو ” غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ “ کہنا غلط نہ ہوگا
COVID-19 تیسری جنگ عظیم کا نیا رخ اور رفتار کی نشاندہی کرتا ہے
ناول کوروناویرس (COVID-19) کے پھیلنے نے انسانیت کو اس صدی کے سب سے بڑے خطرات میں ڈال دیا ہے۔اس نے ممکنہ حیاتیاتی ہتھیار (حادثاتی طور پر یا کسی اور طرح) کے ذریعہ پیش آنے والے بے مثال انسانی المیہ کی طاقتور اقوام کے خطرات کو بے نقاب کردیاجبکہ عالمی طاقتیں سی این پی کے دیگر عناصر کو مضبوط بنانے میں مصروف تھیں۔اس نے دنیا کے سامنے کسی بھی ممکنہ حیاتیاتی ہتھیار کی خطرناکیت کو بے نقاب کیا جو جاری غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ میں ایک نئی جہت کو شامل کرتا ہے۔
ابتداءمیں ووہان شہر کرونا وائرس کا مرکز تھا۔2020 ءکے ابتدائی مہینوں میں چین کے سی این پی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تھی اور اس کی بنیادی وجوہات میں چین ۔امریکہ تجارتی جنگ اور کرونا وائرس کی وبا کا پھوٹنا تھا۔ بعد میں سب نے دیکھا کہ کرونا وائرس کا رخ امریکہ ، یورپ اور برطانیہ کی طرف ہو گیا۔ چین نے وبائی مرض پر فتح کا اعلان کر دیا۔ اس نے اپنے ہیلتھ سسٹم کو بہتر کیا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کروناوائرس پر قابو پا لیا۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بند پڑی ہوئی ہے چین نے اپنی صنعتوں کو کھول دیا ہے اور طبی سامان اور ادویات کی سپلائی چین کو انتہائی فعال بنا دیا ہے جس سے چین کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے اور وہ اب اس پوزیشن میں آکھڑا ہوا ہے کہ وہ وبائی بیماری سے زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے تائیوان کے قریب طیارہ بردار بحری جہاز بھیج کر جارحانہ اقدام کا آغازکر دیا ہے۔ ، بحیرہ جنوبی چین میں نو ڈیش لائن تک اپنے دعوی کو مستحکم کرنے کے لئے ویتنام اور ملائشیا کی ماہی گیری کشتیوں کوڈبو کر کیا ہے۔ اور یہ بھی رپورٹ تھی کی چین نے لوپ نورمیں ایٹمی تجربے کئے ہیں۔ امریکہ نے چین کو اس کی جارحانہ پالیسیوں کے جواب میں ”elephant walk “ کے نام سے مشقیں کر کے اپنے دشمنوں کا واضح پیغام دیا۔چین نے بھی اس کا فوری جواب غیر آباد جزائر اور سانشا شہر کے تحت ڑیشا اور نانشا اضلاع کے قیام کی منظوری کے ذریعہ یکطرفہ طور پر انتظامیہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ بحیرہ جنوبی چین پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے۔اس کے ردعمل میں امریکہ اور آسٹریلیا نے اپنے بحری جہازوں اور امریکہ نے اپنے ساتویں بحری بیڑے کو حرکت میں لا کر جنوبی چین کے سمندر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور سخت فوجی چوکیداری کا نظام قائم کیا۔
غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ کے بعد COVID-19 وبائی مرض کا سفر
کوویڈ۔19 جاری غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ میں امریکہ اور چین کی کمزوریوں کو ظاہر کیا ہے۔ یہ وہ دوراہا ہے جہاں اب فیصلہ ہونا ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کی عالمی طاقت کون ہو گی؟
پہلے کی جنگوں کے برعکس تمام ممالک جنگ نہیں کریں گے کیونکہ سبھی اہم کھلاڑی مشترکہ مقاصد پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں لہذا کچھ ممالک باقاعدہ جنگ میں شامل ہوں گے کچھ اپنی فوجی پوزیشن کو بدلیں گے اور کچھ دوسرے جہتوں کی تلاش کریں گے ۔ ایک نیا عالمی نظم COVID-19 کے بعد سامنے آئے گا ، جو امریکی / چین مرکوز ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تنقیدی مینوفیکچرنگ میں خود انحصار کرنے کے لئے دنیا کو مینوفیکچرنگ مراکز اور رجحانات میں ردوبدل دیکھنے کو مل سکتا ہے. ایسا لگتا ہے کہ مشرقی نصف کرہ کی COVID-19 کے خلاف جنگ میں برتری حاصل ہے۔ اگلی چند دہائیوں میں محور کی طرف دھیرے دھیرے مڑتے ہوئے دیکھیں گے ، جس میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں اور آبادی کے مراکز ہیں۔ لہذا ، یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ” غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ “ کا میدان جنگ بحر الکاہل ہوسکتا ہے ، اور دنیا اس کو تسلیم کرنے / اس کے اعلان کے بغیر ہی اس کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com


About

Leave Comment

Skip to toolbar