Tuesday , October 20 2020

کردار پر لگے دھبوں کو محنت اور ہمت سے مٹانے والی ایک باہمت عورت کی داستاں

کردار پر لگے دھبوں کو محنت اور ہمت سے مٹانے والی ایک باہمت عورت کی داستاں

مظفر جنگ

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پرجدوجہد اور مزدوری سے بچوں کا پیٹ پالتی عورت کی داستاں جس نےزندگی کی مشکلات میں صرف یہی ایک سبق سیکھا کہ ہاتھ پھیلانے سے ہاتھ کے ساتھ محنت کرنا افضل ترین عبادت ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں میں نے حوصلہ اور امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ یہ داستاں ایک باہمت عورت کی ہے جو شیخوپورہ کے مضافات میں رہتی ہے جس نے ہو ش سنبھالنے سے لے کر عملی زندگی کے تلخ تجربات کے دوران مسلسل جدوجہد کی ہے۔ کبھی اپنوں اور کبھی غیروں نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی ۔
اس کہانی کا روای ایک پولیس آفیسر خرم ڈوگر ہے۔ انہوں نے جب اس عورت کو محنت کرتے دیکھا تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے اس عورت سے اس کی زندگی کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔
خاتون کو موٹر سائیکل چلاتے دیکھا تو تھوڑی حیرت ہوئی کہ اس شہر میں پہلے کبھی کسی عورت کو موٹر سائیکل یا سائیکل چلاتے نہیں دیکھا تھا تجسس میں روک کر پوچھا تو مسکراتے چہرے کے ساتھ عاصمہ نے بائیک روک لی میں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس تھوڑا وقت ہے تو کچھ موٹر سائیکل چلانے کے بارے میں پوچھ سکتا ہوں تو عاصمہ نے پنی زندگی کے راز پر پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ جب تیرہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی تو اس کے خاوند اڑتالیس سال کے تھے شادی کے چار سال میں دو بچے ہو گئے. حالات اچھے نہیں تھے گھر سے نکل کر کام شروع کیا تاکہ کچھ کما سکوں تو خاوند نے مردوں سے تعلقات کا الزام لگا کر طلاق دے دی۔
میں اپنے بچوں کو لے کر کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئی کیوں کہ اپنے ماں باپ مجھے جب سے میری اتنی بڑی عمر کے مرد سے شادی کی تب سے اچھے نہیں لگتے ۔میں نے فیصلہ کیا کہ مر جاؤں گی والدین کے گھر نہیں جاؤں گی۔
پھر میں نے مستریوں کے ساتھ مزدوری شروع کر دی اور سائیکل چلانی سیکھی پہلے سائیکل خریدی اور پھر اب دس ہزار جمع کر کے یہ موٹر سائیکل لی ہے جس پر میں مزدوری پر جاتی ہوں اور اپنے بچوں کو سکول چھوڑ کر آتی ہوں۔ بڑا بیٹا اب چھٹی کلاس میں ہے اور چھوٹی بیٹی چوتھی کلاس میں ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں جب میں ان کو موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتی ہوں۔ کبھی کبھار میں انہیں گھمانے کے لئے لے جاتی ہوں۔عاصمہ نے بتایا کہ جب میں مزدوری میں اینٹیں اٹھاتی ہوں یا نیچے سے چھت پر پہنچاتی ہوں تو ساتھ کام کرنے والے مرد بھی حیران ہو جاتے ہیں۔
کہتی مجھے بہت سی باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ لڑکی ہو کر موٹر سائیکل چلاتی مگر میں اپنے بچوں کے لئے سب کچھ برداشت کرتے ہوں ۔
میں نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔ایک دفعہ میرے بیٹے کے جوتے ٹوٹے ہوے تھے ایک استاد نے اس کو نئے جوتے لے کر دیے۔ جب وہ گھر لے کر آیا تو میں اگلے دن وہ جوتے واپس کر کے آئی کہ اگر مانگنا ہی ہوتا تو میں اتنی محنت کیوں کرتی؟
عاصمہ اس طرح مسکرا کر باتیں کر رہی تھی اور میں محو حیرت تھا کہ ایک لڑکی اتنی بہادر کیسے ہوسکتی ہے ؟ پہاڑ جیسا حوصلہ اور صبر ہے اس خاتوں میں اور سب مشکلوں کے باوجود راضی بالرضا بھی ہے اور مسکرا بھی رہی ہے
عاصمہ کہتی مجھے اپنے خاوند سے بھی زیادہ اپنے والدین پر افسوس ہے جنھوں نے اتنی چھوٹی سی عمر میں میری شادی کر دی اور خاوند نے تہمت لگا کر چھوڑ دیا۔عاصمہ ہماری بہادر بیٹی ہے اور ہمارے لیے قابل احترام بھی۔

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com


About

2 Comments

  1. Azad

    / Reply

    Salute to brave daghter. Would that some local Advocate help her without fee and bring his ex husband before court for maintenceof his children. Of she don,t have extra time nor money to attend courts for an indefinite time during pendency of suit..


  2. Rana Mubashir

    / Reply

    Very positive story. It is a driving force for those who are frightened to face the difficulties of life. Way to narate the story is also impressive.


Leave Comment

Skip to toolbar