ETEMAAD NEWS

پاکستان میں کرونا کی دوسرے لہر، تعلیمی ادارے 24 نومبر سے 10 جنوری تک بند کر دیئے گئے.

اسلام آباد۔ 23 نومبر (اعتماد نیوز): وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث تعلیمی ادارے 26 نومبر سے 24 دسمبر تک بند رہیں گے جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی، اس دورا ن کوئی بھی تعلیمی امتحانات جو کہ شیڈول تھے نہیں ہوں گےتاہم ووکیشنل سنٹرز کھلے رہیں گے اور انٹری ٹیسٹ و ملازمتوں کے لئے امتحانات کی اجازت ہو گی۔
اس بات کا فیصلہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے این سی او سی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ شفقت محمود نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں اور تمام تعلیمی ادارے آن لائن تعلیم دیں گے، یونیورسٹی ہاسٹلز میں ایک تہائی طلبا کو ٹھہرنے کی اجازت ہو گی۔ تمام تعلیمی ادارے جن میں سکول ، یونیورسٹیاں، ٹیوشن سنٹر 26 نومبر سے 24 دسمبر تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے 11 جنوری سے دوبارہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے جبکہ اس سے قبل جنوری کے پہلے ہفتہ میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک جائزہ اجلاس ہو گا جس میں اس وقت کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ شفقت محمود نے کہا کہ دسمبر میں جو بھی امتحانات ہونا تھے انہیں ملتوی کردیا گیا ہے تاہم انٹری ٹیسٹ اور ملازمتوں کے لئے ہونے والے امتحانات کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں فوری طورپر آن لائن تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کردیا جائے گا۔ یونیورسٹی ہاسٹل میں ایک تہائی طلباءکو رہنے کی اجازت ہو گی جس میں وہ طلباءجو دور دراز علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات میسرنہیں اور غیر ملکی طلباءشامل ہوں گے۔ ہاسٹل میں رہنے کی اجازت کے بارے میں یونیورسٹیز خود فیصلہ کریں گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا اور جو طلبا اپنے پراجیکٹ کے لئے لیب میں کام کررہے ہیں ان کو بھی یونیورسٹی آنے کی اجازت ہو گی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ مختلف ہنر وں کی تعلیم دینے والے ادارے جہاں طلبا کو فیکٹریوں اور ورکشاپ میں تعلیم دی جارہی ہے بھی اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کو آنے کی اجازت ہو گی اور اس بارے میں سکول خود فیصلہ کریں گے کہ انہیں کتنے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیمی بورڈز کے امتحانات مارچ اپریل کی بجائے مئی جون میں کرانے کی تجویز ہے جبکہ تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے گرمیوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے اور نیا تعلیمی سال اگست تک لے جانے کی بھی تجویز ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ملک میں کورونا کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اورکیسیز مثبت آنے کی اوسط 7 فیصد تک ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم موقع ہے کہ اس بارے میں کوئی فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ بیماری کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کو مد نظر رکھ کر یہ فیصلے کئے جا رہے ہیں۔قبل ازیں اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم نے آن لائن شرکت کی اور اپنے اپنے صوبوں میں کورونا کی صورتحال اور تعلیمی سرگرمیوں سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس صورتحال میں تعلیمی سرگرمیوں کے لئے مختلف تجاویز دیں۔ اس موقع پر وزارت صحت کی جانب سے کورونا کی صورتحال پر اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔

Skip to toolbar