Saturday , August 8 2020

پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر ہمیشہ شرپسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے، شبلی فراز

اعتماد نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے چمن سرحد پر پیدا شدہ کشیدگی کا سبب اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی جانب سے لوگوں کو اکسائے جانے ، افغانستان کی جانب سے فائرنگ اور سرحدی چوکیوں کو نقصان پہنچائے جانے کو قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں اطراف چمن سرحد پر کشیدگی کے بعد حالات کو جلد ازجلد معمول پر لانے کی کوشش کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہونے دیں جن سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو اور قیمتی جانیں ضائع ہوں۔

جمعہ کو وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز کی نیوز کانفرنس ، چمن سرحد پر پیداشدہ کشیدگی کے اسباب اور حکومت پاکستان کے موقف سے عوام کو آگاہ کیا۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے کرونا کے باعث افغانستان کے ساتھ بارڈر بند کئے ہیں۔

چمن سرحد پر کچھ لوگوں نے زبردستی سرحد سے نکلنے کی کوشش کی اور افغانستان کی طرف سے فائرنگ ہوئی،چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچایا گیا،جس کے بعد ہماری طرف سے بھی ردعمل ہوا۔

وزیراطلاعات نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر ہمیشہ شرپسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ ہم نے لوگوں کی آمدورفت کا ریکارڈ رکھنے کے کیے سختی کی ہے اور قواعدوضوابط بنائے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحدی نظام کو مربوط بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ہم افغان حکومت اور عوام کے ساتھ رشتے کو مضبوط کریں گے۔ حکومت افغانستان سے درخواست ہے کہ تعاون کرے.

شبلی فراز نے چمن سرحد پر پیدا شدہ کشیدگی کے بعد حالات جلد معمول پر آنے کی امید ظاہر کی۔ بولے دونوں اطراف سے کوشش کی جائے کہ چمن سرحد پر کشیدگی کے بعد حالات جلد ازجلد معمول پر آئیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کو نہ ہونے دیں جن سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو اور قیمتی جانیں ضائع ہوں۔

وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ ہم سرحدوں کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہم اپنی سرحدوں کو محفوظ بھی بنائیں گے مانیٹر بھی کریں گے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ملک میں کون آرہا ہے کون جارہا ہے۔ ہم افغانستان کو پہلے بھی تجارت کے لیے سہولت فراہم کر رہے ہیں آئندہ بھی کریں گے۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar