Saturday , October 31 2020

پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اعتماد نیوز

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی نے پی اے سی کو بتایا ہے کہ میں صرف نگرانی کرتا ہوں، ادارہ کے ہر معاملہ میں مداخلت نہیں کرتاجس پر پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے چیئر مین پی سی بی احسان مانی کے جواب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ادارے کے ذمہ دار ہیں، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کریں،چیئرمین پی سی بی ادارہ کے سربراہ ہیں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔

بدھ کو رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پاکستان سپر لیگ ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ زیر غور آیا ۔

چیئر پی پی اے سی نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کیوں نہیں آئی۔

سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ محکمہ آڈٹ نے ہمیں ورکنگ پیپر نہیں دیا۔

چیئر مین پی اے سی نے کہاکہ چیئرمین پی سی بی جواب دیں۔ چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے کہاکہ میں صرف نگرانی کرتا ہوں، ادارہ کے ہر معاملہ میں مداخلت نہیں کرتا۔

پی اے سی نے چیئرمین پی سی بی کے جواب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ ادارے کے ذمہ دار ہیں، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کریں۔

رانا تنویر حسین نے کہاکہ سیکریٹری آئی پی سی کرکٹ بورڈ والوں کو بلا کر سمجھائیں کہ نظام کیسے چلتا ہے۔ پی اے سی نے کہاکہ چیئرمین پی سی بی ادارہ کے سربراہ ہیں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔

اجلاس کے دور ان پی ایس ایل ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کمیٹی میں پیش کی گئی ،پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ، رپور ٹ کے مطابق پہ ایس ایل میں تین ٹیموں کی فرنچائز کم قیمت پر فروخت کی گئی،پی سی بی کو 11 لاکھ ڈالر سالانہ کا نقصان ہوا،اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئیٹہ کی فرینچائز کم قیمت پر نیلام کی گئی۔

احسان مانی نے کہاکہ اسوقت حالات مشکل تھے پی ایس ایل کا انعقاد ضروری تھا،پی سی بی پر پپرا قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ نوید قمر نے کہاکہ پی سی بی خودمختار ہو گا لیکن اس کی مالک حکومت ہے۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ پی سی بی کہتا ہے کہ ہم ایک پائی حکومت سے نہیں لیتے۔

انہوں نے کہاکہ اسوقت ٹیموں کی نیلامی پر پپرا قوانین لاگو نہیں تھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے فرینچائز مالکان کو سینٹرل پول سے طے شدہ رقم سے زیادہ ادائیگی کی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے فرینچائز مالکان کو 24 کروڑ 86 لاکھ روپے اضافی ادا کیے۔ پی اے سی نے پی ایس ایل کی مالی بے قاعدگیوں کی محکمانہ انکوائری کی ہدایت کی ۔

چیئر مین پی اے سی نے کہاکہ سیکرٹری آئی پی سی خود ایک ماہ میں تحقیقات کر کے رپورٹ دیں۔ نور عالم خان نے کہاکہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ پی سی بی میں کوئی چوری ہو گی تو ہم نہیں پکڑیں گے۔

چیئرمین پی اے سی نے اجلاس ملتوی کردیارانا تنویر حسین نے کہاکہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar