Tuesday , October 20 2020

نیب شہباز شریف کو گرفتار نہ کر سکی، شہباز روپوش ہو گئے.

لاہور ( اعتماد نیوز) وفاق کی طرف سے گرین سگنل نہ ملنے کی وجہ سے نیب لاہور کی ٹیم قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کئے بغیر انکی رہائشگاہ سے روانہ ہو گئی۔ نیب نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں طلب کر رکھا تھا لیکن شہباز شریف پیش نہیں ہوئے۔ شہباز شریف نے گرفتاری سے بچنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کیلئے دائر درخواست دائر کر رکھی تھی لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بنچ اس درخواست پر تین جون کو سماعت کرتے گا۔
شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 1972میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور زراعت ، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا، عوام کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا،نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ،موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے، جبکہ انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ شہباز شریف نے مزید موقف اپنایا کہ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا اورنیب کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ،نیب اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں لا سکا،
شہباز شریف نے موقف اپنایا کہ تسلسل کے ساتھ تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں، نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا، نیب انکوائری دستاویزی نوعیت کی ہے اور تمام دستاویزات پہلے سے ہی نیب کے پاس موجود ہیں۔ استدعا ہے کہ نیب کے پاس زیر التواانکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے اس لئے عبوری درخواست ضمانت منظور کی جائے۔
دوسری جانب نیب لاہور نے بھی شہباز شریف کو انکوائری کے لئے دو جون کو طلب کر رکھا تھا لیکن شہبازشریف نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب میں پیش ہونے کی بجائے جواب جمع کرا دیا۔ شہباز شریف کے نمائندہ محمد فیصل نے اثاثہ جات کے حوالہ سے تفصیلی جواب جمع کروایا۔ شہباز شریف ہائی کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی تاریخ نہ ملنے پر پیش نہیں ہوئے۔
شہباز شریف کے نیب فس پیش نہ ہونے پر نیب ٹیم نے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں انکی ماڈل وٹاؤن میں واقع رہاشگاہ پر چھاپہ مارا۔ شہباز شریف گرفتاری دینے کے بجائے گھر میں ہی روپوش ہو گئے ۔ اسی دوران نیب کی ٹیم نے اسلام باد ہیڈ کوارٹر رابطہ کر کے ررہائشی ایریا میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، لیکن ہیڈ فس کی طرف سے انہیں ایسا نہ کرنے اور واپس جانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ نیب کی ٹیم تقریبا تین گھنٹے سے زائد شہباز شریف کی رہاشگاہ پر موجود ر رہنے کے بعد واپس چلی گئی۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar