Tuesday , December 1 2020

مسلم امہ میں بڑھتی بے چینی اور تشویش کی وجہ اسلاموفوبیا میں تیزی، نفرت انگیزی اور ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد کی گستاخی ہے، عمران خان

اعتماد نیوز

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مسلمان ممالک کے سربراہان کو ایک خط کے ذریعے پر زور دیا ہے کہ اسلامو فوبیا اور خاص کر یورپی ممالک کے رہنماں کے بیانات کے خلاف انتہاپسندی کو توڑنے کےلئے متحد ہو کر قائدانہ کردار ادا کریں۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر 28 اکتوبر کو مسلمان حکمرانوں کے نام لکھے گئے خط کو جاری کیا اور یہ خط فرانس میں پیغمبر اسلام حضرت محمد کے گستاخانہ خاکے شائع ہونے اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے ان فعل کی حمایت کے کئی دنوں بعد لکھا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مسلمان ہمارا مستقبل چھیننا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری خط میں کہا کہ امہ میں بڑھتی بے چینی اور تشویش کی وجہ مغربی دنیا خاص کر یورپ میں اسلاموفوبیا میں تیزی، نفرت انگیزی اور ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد کی گستاخی ہے۔انہوں نے کہا کہ قیادت کی سطح پر حالیہ بیانات اور قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے حالیہ واقعات بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا مظہر ہیں جو یورپ بھر کے ممالک میں پھیل رہے ہیں جبکہ ان ممالک میں مسلمانوں کی بڑی آبادی مقیم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پورے یورپ میں مسلم مخالف جذبات پھیل رہے ہیں جہاں مساجد کو بند کردیا گیا اور مسلمان خواتین کو عوامی مقامات پر اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور یہاں تک پادری اور راہبائیں اپنے مذہبی لباس میں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کی قیادت مسلمانوں کے قرآن پاک اور حضرت محمد سے پیار اور احترام سے متعلق اکثر لاعملی کی بنیاد پر ردعمل دیتی ہے اور ان کے اقدامات خطرناک عمل اور اس کے ردعمل کا باعث بن جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان معاشروں میں مسلمان پیچھے رہ جاتے ہیں۔خط میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ سے بنیاد پرستی جنم لیتی ہے اور یہ مکروہ سلسلہ ہر طرف انتہاپسندوں کے لیے موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان حکمرانوں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ متحد ہوجائیں اور نفرت اور انتہا پسندی کے اس سلسلے کو توڑ دیں جس سے کشیدگی اور یہاں تک کہ انسانی جانوں کے ضیاع کو باعث بن جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم تمام مسلمان قیادت پر زور دیتا ہوں کہ یک جا ہو کر آواز اٹھائیں اور غیر مسلم رہنماں خاص کر مغربی ممالک کو آگاہ کریں کہ مسلمانوں کے اندر قرآن پاک اور حضرت محمد کے لیے کس قدر گہری عقیدت اور محبت ہے ۔مسلمان حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دوسروں کو آگاہ کرنے اور نفرت اور جرائم کے سلسلے کو ختم کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ 1940 کی دہائی میں نازیوں کی جانب سے 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ پر تنقید اور سوال کرنا مغربی ممالک میں جرم ہے اور مسلم دنیا کو اس کا احساس ہے اور احترام بھی کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مغربی دنیا کو مسلماں کے احترام میں بھی اسی طرح کے مقام کو سمجھنا ہوگا کیونکہ بوسنیا سے عراق، افغانستان سے بھارت کے غیرقانونی قبضے میں موجود جموں و کشمیر تک مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے عقیدے اور حضرت محمد کی گستاخی کی جاتی ہے تو یہ اس سے بڑا اور انتہائی درد ناک اور دلوں کو توڑ دیتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے عیسائی یا یہودیوں سمیت کسی کے بھی پیغمبر کے خلاف گستاخی ناقابل قبول ہے، دنیا میں یہ نفرت انگیزی جاری نہیں رہ سکتی جس سے ہر اطراف کے صرف انتہاپسندوں کو موقع ملتا ہے۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar