Wednesday , July 15 2020

مسئلہ کشمير اُٹھانے پرپاکستان کے خلاف نئی سازش کی جاتی ہے، سیاسی جماعتوں کو اس احساس نوعیت کو سمجھنا ہو گا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اعتماد نیوز

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ پاکستان ميں استحکام نہيں ديکھنا چاہتے،کچھ قوتيں پاکستان ميں معاشی ترقی نہيں ديکھنا چاہتی ہیں،اس لئےسياسی عدم استحکام پيدا کيا جاتا ہے۔

منگل کوایک نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قريشی نے کہا کہ مسئلہ کشمير اُٹھانے پرنئی سازش کی جاتی ہے،پاکستان جب بھی معاشی سرگرمياں بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو سازش ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے بے پناہ قربانياں ديں،دہشت گردی کيخلاف بڑی کاميابياں مليں۔

شاہ محمود نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ سليپر سيلس کو ايکٹيو کيا جائے گا،بھارت کو بار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.

بھارت پاکستان مخالف قوتوں کو استعمال کررہا ہے اور ہميں حالات کو سنجيدگی اورمقبوضہ کشمير کی صورتحال کو سمجھنا ہوگا۔

خطےکی صورتحال پر شاہ محمود قريشی کا کہنا تھا کہ بھارت کے عزائم واضح ہيں اوروہ پاکستان کو غير مستحکم کرنا چاہتا ہے،بھارت افغانستان ميں بھی امن نہيں چاہتا کیوں کہ افغانستان ميں امن قائم ہوا تو بھارت کی اہميت کم ہوجائے گی۔ شاہ محمود نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر سيز فائر کی خلاف ورزی کررہا ہے،بھارت کو چين سے منہ کی کھانی پڑی،بھارت اپنے عوام کی توجہ پاکستان کی طرف موڑنا چاہتا ہے اورپاکستان کو تمام چيزوں کا ادراک ہے۔

سیاسی صورتحال پر شاہ محمود قريشی نے کہا کہ اپوزيشن رہنماؤں کوخطے کی صورتحال پر بيٹھنے کا کہا،اپوزيشن نے ہماری باتوں پر توجہ نہيں دی،اپوزيشن نے بجٹ پر تمام تر توجہ رکھی۔

شاہ محمود نے مزید بتایا کہ اپوزيشن جماعتوں کو بھارت کی سازشوں کو سمجھنا چاہيے،بلاول بھٹوکوجو کہنا تھا،کرنا تھا،وہ کرليا،اپوزيشن کا کام تنقيد کرنا ہے،بلاول بھٹو نے قياس آرائيوں سے کام ليا،اپوزيشن نے وزيراعظم کے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر تنقيد کی جبکہ نون ليگ کا ايجنڈا عمران خان سے چھٹکارہ ہے۔

شاہ محمود قريشی نے یہ بھی کہا کہ پاکستانيوں کوکرونا سےنجات چاہيے اور ہر پاکستانی سرمايہ کاری چاہتا ہے.


About

Leave Comment

Skip to toolbar