Saturday , October 31 2020

علامہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی کی موت، شیعہ ازم میں سیکولر افکار کی موت

علامہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی کی موت، شیعہ ازم میں سیکولر افکار کی موت

زوار حسین کامریڈ

پچیس سال قبل ڈاکٹر ضمیر نقوی صاحب سے تفصیلی ملاقات لائل پور / فیصل آباد میں ندیم شبلی ایڈووکیٹ کے گھر ایک افطار پارٹی کے بعد ہوئی تھی. قبل ازیں مجھے یہ معلومات مل چکی تھیں کہ قبلہ جواں سالی کی عمر میں کیمونسٹ پارٹی کے نہ صرف ممبر بلکہ شعبہ آرٹ و کلچر کے انچارج بھی رہ چکے ہیں.

ملاقات کے دوران تاریخی و جدلیاتی مادیت ، سوشلزم ، سیاسی و سماجی تحریکیں موضوع رہیں اس موقع پر انہوں نے مارکسسٹ ہونے کا برملا اقرار بھی کیا.

راقم کی طرف سے ان کے مذہبی سٹیٹس اور فن خطابت پر تنقیدی سوالات اٹھاۓ گئے تو انہوں نے کہا کہ میں جس مذھبی فلاسفی کا پرچارک ہوں وہ اپنی روح میں سیکولر ازم ہے جبکہ کربلا کے مظلومین کے حق میں ہونے والی مجالس ، عزاداری ، مرثیہ خوانی و دیگر سرگرمیاں نہ صرف کربلا و اہلبیت پر ڈھا ئے جانے والے مظالم کے خلاف ثقافتی احتجاج ہے بلکہ کربلا کے بعد ہر خطہ کے جابروں و ظالموں کے خلاف عزاداری ایسا احتجاج ہے جو ظالم و مظلوم کے فرق کو سمجھانے کا فریضہ ادا کرتا رہے گا.

ان سے دوسری ملاقات 2003 میں ملتان میں ہوئی جس میں ندیم شبلی کے ہمراہ معروف چیمہ فیملی کے جوان سال سیاست دان عرفان چیمہ مرحوم بھی تھے.

اس ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے مرحوم جو ان دنوں ناظم تھے ، کو عوام دوستی کی باتیں بطور خاص سمجھائیں . لاہور میں شفٹ ہوا تو عصر حاضر کے ممتاز شیعہ خطیب علامہ موسیٰ حیدر زیدی جن سے دیرینہ فیملی تعلقات تھے ، کی وساطت سے قبلہ سے اکثر فون پر بات ہو جاتی . وہ بڑی گرم جوشی سے مجھے کامریڈ کی حثیت سے جدوجہد میں متحرک رہنے پر حوصلہ افزائی کرتے .

خیمہ سادات میں مجالس کے بعد ان سے ایک دو نشستوں کا اعزاز ملا. وہ فلم، میوزک ، آرٹ ، ادب اور کلچر کے موضوع پر ایسی نان سٹاپ گفتگو کرتے کہ سامعین ایک مذہبی سکالر کی زبانی متذکرہ موضوعات پربولڈ گفتگو سن کر ششدر رہ جاتے .

لاہور کے ایک معروف نوجوان سنگر کی مقبولیت میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا. مجالس سے جو فیسیں ملتیں اسے چند دنوں میں مہمان نوازی پر خرچ کر کے تنگ دستی کا بھی شکار ہو جاتے مگر مہمان نوازی کا شاہانہ انداز رکنے نہ پاتا .

سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر بات کرنے اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں مرحوم ید طولی رکھتے تھے.

اسی بناء پر ڈیجیٹل ایج میں وہ اپنے ہم عصروں سے زیادہ مقبول و جانے مانے تھے. ڈاکٹر صاحب کی شہرت کو ان کے مخالف قدامت پسند شیعہ علماء و خطیبوں نے انھیں ایک مزاحیہ کرداربنا کر نقصان پہچانے کی کوشش کی مگر مخالفین کی منفی کاوشوں کی بدولت وہ آج کے سب سے مقبول مذھبی خطیب تھے . گو لوگ انھیں مزاحیہ کردار سمجھ کر دیکھتے تھے مگر جب ان کی سنجیدہ تقاریر سماعت کرتے تو ان کی علمی خوبیوں کے بھی مداح ہو جاتے.

ان کی سب سے بڑی خوبی حد درجہ مطالعہ تھی جسے برؤے کار لاتے ہوے وہ دنیا کے کسی بھی موضوع پر گھنٹوں بے تکان بول سکتے تھے .انہوں نے ہزاروں تقریریں دنیا کے ہر ملک میں کیں مگر ہر بار ان کی تقریر کا موضوع مختلف ہوتا اس ضمن میں وہ حاضرین سے موضوع تجویز کروا کر اس پر دو تین گھنٹے کی تقریر کر دیتے تھے. اپنی تقریر میں بیان کردہ واقعات کا ریفرنس مانگنے پر وہ سخت برہم ہو جاتے اور فرمایا کرتے کہ میں ذاتی طور پر خود اس نکتہ کا ریفرنس ہوں . قصوں کو سناتے ہوے وہ فرمایا کرتے تھے کہ تمام الہامی کتب میں قصوں کا تناسب زیادہ ہے سو میں بھی قصوں سے اپنے مذہبی عقائد کو نمایاں کرتا ہوں .

ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی نے دنیا بھر کی زبانوں میں لکھے مرثیہ پر تحقیق کا ایسا شاندار کام کیا ہے جو انھیں بطور محقق امر کر گیا ہے . شیعہ علماء ، خطیبوں و ذاکرین میں سیکولر ازم کا پرچم بلند کرنے والے ایک درویش کی موت کسی ایک فرد کی موت نہیں بلکہ شیعہ کمیونٹی میں لبرل و سیکولر فکر کی موت ہے .

زوار حسین کامریڈ گزشتہ تیس سال سے پیشہ ور صحافی کی حثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں.

About

Leave Comment

Skip to toolbar