Friday , October 30 2020

صوبے اور وفاق قانون سازی سمیت ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کا حل نکالیں، عدالت عمظیٰ

کمیشن برائے ماحولیات نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی
تمام صوبے ماحولیات کے حوالے سے مشترکہ معیار مقرر کریں گے، رپورٹ
اسلام آباد: 08 اگست (اعتماد نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان کمیشن برائے ماحولیات نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ۔ جمعرات کوجسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہاگیاکہ وفاق سمیت تمام صوبوں نے باہمی اشتراک سے پالیسی بنانے پر اتفاق کیا ہے،تمام صوبے ماحولیات کے حوالے سے مشترکہ معیار مقرر کریں گے۔ سربراہ کمیشن نے کہاکہ پنجاب میں بھٹوں کے دھوئیں کا مسئلہ کافی حد تک حل کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اینٹوں کے بھٹوں کو ماحولیات دوست بنانے کے لیے سٹیٹ بنک 6 فیصد شرع سود پر قرضے دے رہی ہے۔ سربراہ ماحولیاتی کمیشن نے کہاکہ احولیات کے حوالے سے پالیسی بنانے کےلئے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ سربراہ کمیشن نے کہاکہ کمیشن کی سفارشات کو عدالتی حکم کا حصہ بنا لیا جائے تو عمل کرنے میں آسانی ہو گی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ کیا سفارشات کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ ایڈوکیٹ جنرل آفسز کو سفارشات پر عمل کے حوالے سے کوئی ہدایات ہیں۔صوبائی حکومتوں کے وکلاءنے کہاکہ کمیشن سفارشات کے حوالے سے ہمیں کوئی ہدایات نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ایڈوکیٹ جنرل آفسز کی رضامندی کے بغیر سفارشات کو عدالتی حکم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ فضائی آلودگی کے حوالے سے کیا کچھ ہوا ہے۔ڈی جی ماحولیات نے کہاکہ فضائی آلودگی کے حوالے سے سیمنار منعقد کیے گئے ہیں۔ ڈی جی ماحولیات نے کہاکہ ہم نے شاپنگ بیگ پر بھی پابندی لگا دی ہے۔عدالت نے کہاکہ احولیاتی کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں آ چکی ہے، رپورٹ کا جائزہ لیا جائےگا۔ عدالت نے کہاکہ چاروں صوبے اور وفاق قانون سازی سمیت ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کا حل نکالیں۔بعد ازاں کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar