Tuesday , October 20 2020

شیخوپورہ : وکیل کے تشدد کا شکارلیڈی کانسٹیبل نے انصاف نہ ملنے پر نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا

شیخوپورہ (اعتماد نیوز) شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا کی کچہری میں وکیل کے مبینہ تشدد کا شکار لیڈی پولیس کانسٹیبل فائزہ نواز نے انصاف نہ ملنے پر نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار نے احمد مختار نامی وکیل کو لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پارک کرنے سے منع کیا تھا جس پر وکیل احمد مختار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل سے بدتمیزی کی اور تھپڑ مارا تھا۔

ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وکیل کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اگلے روز اسی خاتون پولیس اہلکار نے تھپڑمارنے والے وکیل کو ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کیا تھا تاہم عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

اب اسی خاتون پولیس اہلکار فائزہ نواز نے انصاف نہ ملنے پر نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں فائزہ کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف ملتا دکھائی نہیں دے رہا، میرے وکیل بھائی میری کردار کشی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے اپنے ہی محکمے کے لوگوں کی وجہ سے ایف آئی آر کمزور ہوئی، طاقت کے زور پر وکیل نے مجھ پر تشدد کیا، وکلاء نے پہلے تو بدکلامی کی لیکن اب تو انتہا کردی اور میں ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان اور خوفزدہ ہوں۔

فائزہ نواز کا کہنا تھا کہ میں اس غیر منصفانہ اور ظالم نظام سے دلبرداشتہ ہو چکی ہوں، پاور فل مافیا کا سامنا نہیں کرسکتی لہٰذا نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیڈی پولیس اہلکار تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت پر برس پڑی

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں سامنے آگئے تھے۔

فیروز والا کچہری میں خاتون اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں ریلی نکالی گئی تھی۔ فیروز والا کچہری میں ہڑتال کی گئی اور عدالت میں پولیس کا داخلہ ممنوع ہونے کے بینر بھی لگائے گئے۔

صدر شیخوپورہ ڈسٹرکٹ بار رانا زاہد نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کی حمایت میں بیان دیا تھا کہ پولیس نے جس طرح ان کے وکیل ساتھی کو عدالت میں پیش کیا وہ غنڈہ گردی ہے، وکیل اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے
ملزم احمد مختار کی بریت کے بعد پنجاب حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گِل نے ایک ٹوئٹر صارف کی تنقید پر جواب دیا کہ ایف آئی آر میں نام ٹھیک بھی ہوتا تو کیا اس کیس میں ایک وکیل کی ضمانت نہیں ہوتی؟

انہوں نے کہا کہ ’ہر بات کو حکومت پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں۔ کل ایف آئی آر کی غلطی درست کروا دیں گے لیکن اب عدالتوں کو تو آزدانہ کام کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا‘۔

اس سے قبل لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے درخواست جمع کروائی تو سب انسپکٹر نے ایف آر درج کرتے ہوئے ایک جگہ احمد مختار کی جگہ احمد افتخار نام لکھ دیا۔


About

Muhammad Imran Khan Lohani

Leave Comment

Skip to toolbar