Saturday , August 8 2020

سینیٹ نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 اور سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل 2020 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی

اعتماد نیوز

اسلام آباد: سینیٹ نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 اور سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل 2020 کی متفقہ طور پر منظوری دےدی ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ سینیٹ نے دونوں بلز کی متفقہ منظوری سے بھارت کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے،اب پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں،ہم انشاءاللہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں لے کر آئیں گے،کلبھوشن پاکستان چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ ہی ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے کہ کلبھوشن راتوں رات فرار ہوجائے۔

جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل اور سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کیں جس کے بعد مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل اور سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل 2020 باری باری منظوری کےلئے پیش کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے مخالفت نہ کیے جانے کے باعث دونوں بلز کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے واضح کیا کہ کوئی بھی جماعت اس قانون سازی کی مخالف نہیں تھی ،گزشتہ روز پارلیمان میں صرف طریقہ کار پر بحث ہوئی تھی اور ہماری خواہش تھی کہ قانون سازی اتنی اچھی ہو کہ ملک میں اسے غلط طور پر استعمال نہیں کیا جاسکے۔

اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہونے والی قانون سازی کو فوری طور پر ایشیا پیسفک گروپ کو بھجوایا جائے گا اور امید ہے کہ اے جی پی اس کا جائزہ لے کر اکتوبر میں ہونے والے ‘پلانری’ اجلاس میں اسے پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان نے تمام مراحل طے کرلیے ہیں اس لیے کوئی جواز نہیں بنتا کہ پاکستان کو اب بھی گرے لسٹ میں رکھا جائے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں شامل کیا جائے گا جس کا سہرا پوری قوم کے سر ہوگا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ یہ ایک پختہ ذہن اور سنجیدہ ایوان ہے اور جہاں پاکستان کا مفاد آئےگا وہاں جماعتی حدود و قیود اور ذاتی مفادات پس پشت ڈالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے ایوان میں دونوں بلز کی منظوری پر ایوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت کافی عرصے سے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کروانے کی کوشش کررہا ہے اور اس کا یہ مقصد ہے کہ پاکستان مالی مشکلات کا شکار رہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے آج بھارت کے عزائم کو خاک میں ملادیا، ہمارے باہمی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان کے معاملے پر ہم ایک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں عارضی ہیں یہ حالات بدلتے رہتے ہیں لیکن ریاست کے مفادات بالاتر ہیں اور جس طرح سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا یہ وہ اسٹیٹمین شپ ہے جس کا مظاہرہ کیا جانا تھا اور کاش کے جے یو آئی (ف) بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ اراکین کو کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس کے مضمرات کے حوالے سے تشویش تھی، وہ قید میں ہے اس کی سزا میں کوئی تخفیف نہیں کی گئی اور نہ ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے کہ وہ راتوں رات یہاں سے فرار ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کو کوئی رعایت نہیں دی گئی ہم ایک ذمہ دار ملک ہیں، بھارت عالمی عدالت فیصلے میں پہلے بھی یہ معاملہ لے جاچکا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ دوبارہ کسی طرح یہ معاملہ وہاں جاسکے جبکہ ہماری یہ کوشش تھی کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اس طرح عملدرآمد کیا جائے کہ بھارت کو کوئی موقع نہ مل سکے،چنانچہ ہم نے ایک نہیں 2 مرتبہ قونصلر رسائی دی جو اعتراض وہ اٹھاتے رہے انہیں ہم بتدریج دور کرتے رہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے قونصلر رسائی کے لیے پہلے حدود قیود طے کیے گئے جس میں شیشے نہ ہونے، بات چیت کی ریکارڈنگ نہ کرنے پر اتفاق کیا لیکن اس کے باوجود قونصلر نے بات نہیں کی کیوں کہ انہیں ہدایت ملی ہوئی تھی کہ کوئی بہانہ بنا کر رفو چکر ہوجائیں اور دوبارہ عالمی عدالت انصاف جانے کا موقع مل جائے۔

چنانچہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اعتراض کیا کہ 2 سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں ماحول میں گھٹن تھی جس پر میں نے اسی روز سیکریٹری خارجہ کو بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کرنے اور یہ اعتراض دور کر کے ایک مرتبہ پھر قونصلر رسائی کی پیش کش کرنے کی ہدایت کی۔جس پر بھارت کی جانب سے اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔وزیر خارجہ نے کلبھوشن یادیو کے آرڈیننس میں فری اینڈ ٹرائل صرف ایک شخص سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ ہمیشہ کےلئے اور مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ درپیش ہونے پر اس کا استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد نے کہا کہ اس آرڈیننس کو چھپایا گیا تاہم اس میں چھپانے والی کوئی چیز ہی نہیں تھی یہ مکمل اوپن پراسس تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس سے پاکستان کو کسی مشکل کا سامنا ہو۔اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کلبھوشن کے ملک میں نہ ہونے سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا،سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا اور سزائے موت دی گئی لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کلبھوشن کے حوالے سے حکومت نے کوئی منصوبہ بنا لیا ہے جس میں وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کلبھوشن کو 3 مرتبہ قونصلر رسائی دی لیکن اس نے قبول کیوں نہیں کی یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر نے یہ بیان دیا کہ کلبھوشن تو جاچکا ہے، جسے ہم نے اس وقت سنجیدگی سے نہیں لیا اور حکومت کی کسی رکن نے اس سے وضاحت بھی طلب نہیں کی۔دوسری جانب وزیراعظم یا وزیر خارجہ سمیت کسی کی بھی جانب سے ایکشن تو دور کی بات کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا کہ اس نے یہ غلط کہا حالانکہ یہ ایک خطرناک معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کلبھوشن ملک میں موجود ہی نہیں ہے کیوں کہ 3 مرتبہ اسے قونصلر رسائی دی گئی اور وہ نہیں آیا اس کا مطلب وہ اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتا تو پھر اس وزیر کی بات سے کیا مطلب لیا جائے جبکہ وہ خود قونصلر رسائی مانگتا تھا۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ ہمارے سوالوں کے جواب پر کوئی بھی کمیٹی تسلیم بخش جواب نہیں دیتی،میں نے لاکھڑا پاور ہاوس کا معاملہ اٹھایا،لاکھڑا جا کر ہم نے اس معاملے پر رپورٹ بھی پیش کی،حکومت بھی کمیٹیوں کے معاملے پر کوئی ایکشن نہیں لیتی،کمیٹی اگر کچھ پیش کرے تو حکومت بھی جواب دینا مناسب نہیں دیتی،حکومت کی ایک شخصیت سندھ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے،ان کے اندر کوئی خوف خدا نہیں ہے۔ لوگوں کو لوڈ شیڈنگ سے تنگ کیا ہوا تھا،تقریریں سنتا ہوں تو آنے والے دنوں کو وقت برا لگتا ہے،کبھی مسجد کے پتھر پر الطاف حسین کی تصویر لگی ہوئی تھی آج کوئی اس کا نام لینے کو تیار نہیں ،ایوان میں ایسی باتیں نہ کریں کہ ماحول خراب ہو تکبر کو ہوا مت دیں،پڑھے لکھے لوگ ہیں ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے،بجلی کے منصوبوں کو پیچنے کی بجائے ان پر کام کریں،حیدرآباد میں بجلی نہیں ہے یہ خوشیاں منا رہے ہیں۔

مولانا عطاءالرحمان نے کہاکہ ہونے والی قانون سازی پر جمعیت علمائے اسلام کو نہیں سنا گیا،ہم آنکھیں بند کر کے کوئی بھی بات تسلیم نہیں کر سکتے،بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ترامیم کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا،اس طرح کی قانون سازی پر اس اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ نہیں چلیں گے ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کو من و عن عمل کرنا درست نہیں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کی طرف سے ترامیم لاکر حکومت کو راستہ دینا اپوزیشن کی بڑی ناکامی ہے ،میں دونوں بڑی اپوزیشن کی جماعتوں سے آج گلہ کر رہا ہوں، اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اپنا کردار ادا نہیں کر رہے ۔

سینیٹر مولانا عطاءالرحمن نے متحدہ اپوزیشن سے علیحدگی کا اعلان کردیا،سینٹ میں ہم متحدہ اپوزیشن کا کاساتھ نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ایک دن آئے گا یہ قوم آپ سے حساب لے گی ،ہم اس قرار داد کے ساتھ نہیں ہے ،جو چیز آپ لارہے ہے اس سے بین الاقوامی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح آپ لوگوں نے بل پاس کروائے جے یوآئی کے اس پر تحفظات ہے ،پاکستان اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے اختیار کردہ قرار دادوں کا پابند ہے ،قراردادیں شہادتوں کے ذمہ نہیں آتی ،یہاں بھی مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی قراردادیں پندرہ پندرہ سالوں سے پینڈنگ میں ہے،جمعیت علماءاسلام کو قائمہ کمیٹی میں کیو نہیں سنا گیا؟سینیٹر جاوید عباسی نے کمیٹی میں تمام افراد کو بلایا گیا مگر جے یوآئی کو کیو نہیں بلایا گیا؟کیا ہم اس ملک کے دشمن ہے اس قوم کے دشمن ہے؟۔

قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ سینیٹ نے ثابت کیا کہ اجتماعی دانش سے مشکل سے مشکل مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے ،اپوزیشن اور حکومت کا آنا جانا لگا رہتا ہے تاہم ریاست مستقل ہے ،سبز جھنڈے اور ریاست کے لیے ہمارا سب کچھ قربان،کلبھوشن نہ کہیں جارہا ہے اور نہ اس کی سزا میں کمی کی جارہی ہے ،کلبھوشن اپنے کیے کا خمیازہ بھگتے گا۔ انہوںنے کہاکہ آج پاکستان کی جیت ہوئی ہے اور پارلیمان مضبوط ہوئی ہے،ریمنڈ ڈیوس بھی تھا جس نے پاکستانی شہریوں کا خون بہایہ لیکن وہ آسانی سے چلا گیا ،اب پاکستان میں ایسا نہیں ہوگا۔

مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ ہمیں خطرہ ہندوستان سے نہیں اپنے اعمال سے ہے ،ہمارے ہاں فیصلے عالمی ادارے کرتے ہیں ،ہمارے ہاں وزیر مشیر باہر سے آتے ہیں ،یہ لوگ ہماری قسمت کے فیصلے کرتے ہیں ،آج عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ،چینی چوری ہوئی آپ نے جہانگیر ترین کو باہر بھجوا دیا ،آپ ذرا بتائیں آپ کر کیا رہے ہیں ،چینی چوری اٹا چوری ہو رہی ہے لیکن احتساب صرف اپوزیشن کا ہو رہا ہے۔بعد ازاں سینٹ کااجلاس غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی کر دیا گیا ۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar