Wednesday , December 2 2020

سکندر مرزا کا وہ خط جو اس نے مولویوں کے خلاف اور قادیانی وزیر داخلہ سر ظفر اللہ خان کی حمایت میں لکھا

ہمارا ملک عجیب و غریب کشمکش اور سازشوں کو مرکز رہا ہے۔کبھی یہاں مذہب کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ہے اور کبھی صوبائی اور لسانی بنیادوں پر ہنگامے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پچاس کی دہائی کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔اسی دور میں ملک میں پہلی مارشل لاء لگی اور مذہبی بنیادوں پر قادیانیوں کے خلاف پرتشدد اور منظم تحریک بھی چلائی گئی۔اگرچہ کچھ لوگوں کے خیال میں اس تحریک کے پیچھے کچھ سیاسی محرکات تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عوام ہمیشہ مذہب کے نام پر جذباتی رد عمل دینے کو تیار رہتی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہنگامے برپا کیے جا رہے تھے کہ قادیانیوں کو سرکاری طور پرکافر قرار دیا جائے۔ اس تحریک کے پیچھے جہاں سیاسی شخصیات تھیں وہاں اس وقت کے اعلیَ پائے کے علماء اکرام بھی تھے اور دوسری طرف ایسی طاقتور شخصِات بھی تھیں جو قادیانیوں کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں تھیں۔ان میں سے اس وقت کے سیکرٹری دفاع سکندر مرزا بھی تھے۔ سکندر مرزا کے کردار پر بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ میر جعفر جس نے سراج الدولہ کے خلاف سازش کر کے انگریزوں کی حمایت کی تھی سکندر مرزا انہیں کی اولاد میں سے تھے۔ میر جعفر کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ “وہ ننگ دین اور ننگ وطن ہے” بعد میں سکندر مرزا نے ایوب خان کے ساتھ مل کر ملک میں جمہوریت کی بساط کو لپیٹ دیا تھا۔
جس وقت ملک میں ہنگامے برپا کیے جا رہے تھے عین اس وقت سکندر مرزا نے 26 فروری 1953 کو وزیر اعظم ناظم الدین کو انتہائی خفیہ خط لکھا تھا جو بعد میں منظر عام پر بھی آ گیا تھا۔خط کے مندرجات کچھ یوں تھے۔
“ملک میں پہلے ہی تمہارے دشمنوں کی کمی نہیں تھی اب ان کے ساتھ مولوی حضرات بھی مل چکے ہیں جو ملک میں مسائل کھڑے کر رہے ہیں اگر حکومت نے برقت ان کو لگام نہ ڈالی تو یہ انتظامیہ اور ملک دونوں کے لیے خطرناک ہو گی۔ وزیر داخلہ سر ظفر اللہ خان انتہائی اہم دورے پر مصر میں موجود ہیں جہاں ان کا انتہائی ادب و احترام کے ساتھ استقبال کیا گیا ہے۔ وہ تمام عرب ممالک کے سربراہوں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں اور پورے عرب خطے میں ان کی شہرت بہت اچھی ہے جبکہ کراچی میں عوامی اجتماعوں میں سر عام انہیں گالیاں دی جا رہی ہیں اور اس کی تصویروں پر لوگ تھوک رہے ہیں۔خدا کے لیے جراتمند لیڈر بنیں اور ان مولویوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں۔اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چند بدمعاشوں کے علاوہ ملک کی تمام عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ایسا کرنے سے نہ صرف پاکستان محفوظ ہو جائے گا بلکہ دنیا بھر میں اس کی عزت میں اضافہ ہو گا۔

صحافی، کالم نگار، مورخ اور مصنف مظفر جنگ کے مضامین ،تجزیے، خبریں اور کالم کسی طور پربھی ، دوسری جگہ پر شائع نہیں کیے جاسکیں گے، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی کا حق رکھتے ہیں

Muzaffar Jang is a senior and seasoned journalist working in English and Urdu newspapers and publications. He may be reached at his email address: alijournalist@hotmail.com or at his whatsapp no : 0304-0040462


About

Leave Comment

Skip to toolbar