Monday , September 21 2020

رام اوردام

محمدناصراقبال خان

رام اوردام

خیبر میل رائیونڈ اسٹیشن پر چند منٹ رکنے کے بعدشہرقائدؒ کیلئے روانہ ہوگئی،انجن سے پچھلی کوچ کچھا کچھ بھری ہوئی ہے۔ سیٹ سے محروم مسافررش کے سبب ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں ،کوچ میں مچھلی منڈی کاماحول بن گیا ہے۔ کافی دیر تک باہمی تناﺅ کے بعد جب لوگ کچھ پرسکون ہوئے توانہوں نے دیکھا ایک شخص کوچ کے باہر دروازے پر لٹکا ہوا ہے۔ایک ضعیف مسافر نے بلندآوازمیں کہاانسانیت کی خاطر باہر لٹکے شخص کواندرآنے دیں کیونکہ اس کے گرجانے کا ڈرہے، کیا آپ کواس پریشان حال انسان پرترس نہیں آرہا۔

ضعیف مسافر کی بات ختم ہونے سے پہلے ایک نوجوان نے زوردار لہجے میں کہا اس کوچ میں معمول سے زیادہ لوگ سوار ہیں اوراب مزید کسی کی گنجائش نہیں۔ کچھ دیراختلاف اوربحث کے بعدکوچ کادروازہ کھلتا اورباہر لٹکاشخص اندر آجاتا ہے ۔اس کے بعد ٹرین اوکاڑہ اسٹیشن پررکتی ہے تووہ مسافرجوکوچ کے باہر لٹکاہوا تھااوراسے انسانی ہمدردی کے تحت اندرآنے دیاگیا تھا وہ دروازے پردیوار بن کرکھڑا ہوگیااوراس نے کہا میں باہر سے کسی مسافرکواندرنہیں آنے دوں گا،وہ انسان جوکچھ دیرپہلے تک قابل رحم تھاوہ اچانک فرعون بن گیا۔

کوچ کے باہر لٹکامسافر یادآنے پرفوادچوہدری کاچہرہ میری نگاہوں میں گھوم جاتا ہے ۔

متعدد سیاسی پارٹیوں کے مختلف بلکہ ایک دوسرے سے متضاد نظریات پرسیاسی بیعت جبکہ فوجی ڈکٹیٹر پرویزمشرف سے آصف علی زرداری تک ان دونوں متنازعہ شخصیات کی بھرپورترجمانی اور قصیدہ خوانی کرنے کے بعد فوادچوہدری اِن دنوں ”تبدیلی ایکسپریس ”میں سوار ہے اوراپنے ہم منصب وزراء سمیت پاکستانیوں کوقیادت کی اطاعت ،اخلاقیات اورسیاسیات کادرس دیتا ہے،اس کابس چلتا توکئی وزیرآج وزیرنہ ہوتے۔

ابھی توفواد چوہدری کے ان بیانات کی سیاہی بھی نہیں سوکھی جواس نے پرویزمشرف اورآصف زرداری کے حق میں دیے تھے۔

ہوسکتا ہے تبدیلی سرکار” تبدیل” ہونے کے بعد فواد چوہدری کاسیاسی فلسفہ اورنظریہ بھی ایک بارپھر بدل جائے ۔

کسی دانا نے کہا تھا ”جو ہرکسی کا دوست ہووہ کسی کادوست نہیں ہوتا”۔ جس کی وفاداریاں ہرکسی کیلئے دستیاب ہوں وہ باوفااورباصفا نہیں ہوسکتا ۔

فوادچوہدری کوشروع میں اطلاعات ونشریات کاقلمدان دیا گیا جواس کی ناقص کارکردگی کے نتیجہ میں کچھ ماہ بعد تبدیل کردیاگیا۔

فوادچوہدری پی ٹی آئی کے بانیان سے زیادہ خود کوحکمران جماعت میں اپنے کپتان کے بعد Seniorاور اس کاSincere سمجھتا ہے۔

وزیرسائنس کی اسلامی مسائل پرمستندعلماء کولیکچر دینے کی عادت بھی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔

دوسروں کے کام میں وہ مداخلت کرتا ہے جس کے پاس اپناکوئی ”کام” اورجس کااپناکوئی” دام” نہیں ہوتا۔آستین کے سانپ اور”بغل میں چھری منہ میں رام رام” والے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ اورمتعدد سیاسی وفوجی حکمرانوں کاانجام بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے،جولوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں درحقیقت انہیں خودباد شاہ بننے کاجنون ہوتا ہے اوروہ اس کیلئے اپنے پیاروں سمیت دوسروں کاخون تک بہا دیتے ہیں ۔

پی ٹی آئی کے کپتان کو بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں اوروفاق سے پنجاب تک بزداروں نے گھیراہوا ہے۔ وفاقی وزراءکے درمیان آئے روزہونیوالی فرینڈلی فائرنگ سے کپتان کی سیاسی بصیرت اورگرفت پرانگلیاں اٹھتی ہیں،کیا کوئی وفاقی وزیر اپنے وزیراعظم کے اثر میں نہیں ہے۔وفاقی کابینہ میں ڈسپلن کے فقدان کانقصان کپتان نہیں پاکستان کوپہنچتا ہے۔

فوادچوہدری کے ہردوسرے بیان سے تبدیلی سرکار کوخفت اٹھاناپڑتی ہے،کپتان نے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کاقلمدان ایک ایڈووکیٹ کوتھما دیااور وہ عیدین کے ”چاند”کوبنیاد بناتے ہوئے اپنا ” چن” چڑھاتا رہتا ہے۔اسلام سے سائنس ہے ،سائنس سے اسلام نہیں۔عیدین کاچانددیکھنے کیلئے اسلامی تعلیمات سے انحراف اورانکار نہیں کیا جاسکتا۔بے یقینی اوربے چینی کے ساتھ چانددیکھنا یا اعلان کاانتظاراورایک دوسرے کومبارکباد پیش کرناہماری روایات ہیں ،ان پرحملے ناقابل فہم اورناقابل برداشت ہیں ۔

جس طرح علماءحضرات وزیرسائنس کے کسی معاملے میں مداخلت نہیں کرتے اس طرح فوادچوہدری کوبھی ان کے کسی کام میں دخل اندازی کاحق نہیں پہنچتا ۔

اگرسائنس سب کچھ ہے توپھرکیوں نہ کسی ربورٹ کووزیرسائنس بنادیاجائے،کامیاب وزیرسائنس Minister Science) (ہونے کیلئے اس میں) Sense (اوراس کا(Sensible)ہوناازبس ضروری ہے۔

فوادچوہدری نے کس کے اشارے پرمذہبی طبقات کوحکومت کیخلاف صف آراءکرنے کابیڑااٹھایا ہے ،وزیراعظم اپنے وزیرکی روش پرغور کرے ۔

فواد چوہدری کواپنے مخصوص طرز سیاست اوراندازبیاں سے یقینا شہرت ملتی ہے لیکن کیاعزت کی قیمت پرشہرت میں گھاٹا نہیں کیونکہ شہرت کے معاملے میں تواداکارہ میرابھی خودکفیل ہے۔

فوادچوہدری وزیربننے کے بعدمشہوراورمغرورضرورہوگیا ہے مگرکپتان کے مخلص حامیوں سمیت معاشرے کے سنجیدہ لوگ اسے پسندنہیں کرتے۔

مجھے تعجب ہے جس وزیراعظم کی کابینہ کے وزراءایک پیج پرنہیں توپھراپوزیشن پارٹیاں کس طرح قومی ایشوزپرا س کے ساتھ ایک پیج پرآ سکتی ہیں۔جوکپتان اپنے ٹیم ممبرز کوپارٹی ڈسپلن کی دھجیاں بکھیرنے سے نہیں روک سکتا اس کا اپنے ماتحت ریاستی اداروں یا عوام سے نظم ونسق کی امیدرکھنا درست نہیں ۔

تبدیلی سرکار کومنتشراورمصلحت پسند اپوزیشن ملی لیکن اس کے باوجود ریاستی نظام تودرکنارکوئی ادارہ بھی تبدیل نہیں ہوا۔عمران خان کاسب سے بڑادشمن اس کے اندر بیٹھا”آمران خان” ہے،عوام نے عمران خان کی شخصیت نہیں شہرت کومینڈیٹ دیا لہٰذاءاب ماتم نہ کریں ۔

اپوزیشن نے بھی ایوان میں عددی اعتبار سے اپنے بڑے حجم کے باوجود نااہل حکومت کی سمت درست کرنے کیلئے کوئی قابل ذکراورقابل قدر کردارادانہیں کیا ۔

اپوزیشن کی ممکنہ اے پی سی کاہدف بھی فوٹوشوٹ کے سواکچھ نہیں ،تبدیلی سرکار کی صحت پراس اے پی سی کاکوئی اثر نہیں پڑے گاکیونکہ متحدہ ”اپوزیشن” اندرونی طورپرمنقسم اورمنتشر” پوزیشن” میں ہے۔

مجھے اپنے وطن کے ان نادان افرادکی دماغی صحت پرترس آتا ہے جو منتخب حکمرانوں اورسیاستدانوں کے ناکام ہونے پر ہماری قابل رشک پاک فوج کوبدنام کرتے ہیں۔اگرکپتان کے کندھوں پراسٹیبلشمنٹ کادست شفقت ہوتاتواسے بھی نوازشریف کی طرح ہیوی مینڈیٹ ملتا۔ میں نہیں مانتا کسی کرنیل نے پی ٹی آئی کے کپتان سے عثمان بزدارکووزیراعلیٰ پنجاب نامزدکرنے کا کہا ہوگا، یہ عمران خان کا اپناحسن انتخاب ہے ۔

عمران خان کاذوالفقار بخاری اور فیصل واوڈا پراندھا اعتمادبھی یقینا فوجی حکام کی ڈکٹیشن کاشاخسانہ نہیں ۔ غلام سرورخاں،اسدعمر ،فوادچوہدری،علی امین گنڈا پور اورزرتاج گل کووزیربنانے کافیصلہ بھی عمران خان نے خودکیا۔زرتاج گل نے وزیراعظم کی چاپلوسی کرنے میں مرد وزراءکوبھی پیچھے چھوڑدیا۔شیخ رشید ، غلام سرورخاں،عمرایوب خان اورزبیدہ جلال خان سمیت وفاقی کابینہ میں زیادہ تروہ لوگ ہیں جو ماضی میں بھی وفاقی وزیر بنے اورتجربہ کارہو تے ہوئے بھی ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ۔میدان کرکٹ سے ایوان اقتدار تک کپتان اپنے فیصلے خودکرتاآیا ہے اورآج بھی خودکررہا ہے لہٰذاءتبدیلی سرکار کے ہراچھے برے فیصلے کاجواب بھی عمران خان سے لیا جائے اورعوام کی تنقیدوتحسین کامستحق بھی وہ ہے۔

عمران خان ووٹ سے آیا اورووٹ سے جائے گاکیونکہ تبدیلی سرکار کی بدترین ناکامی اوربدنامی کے باوجوداِن ہاﺅس ”تبدیلی”کادوردورتک کوئی امکان نہیں۔تاہم قوم آئندہ انتخابات میں اناڑی حکمرانوں سے اپنی محرومیوں کاانتقام ضرور لے گی۔

اگرپی ٹی آئی کاکپتان مردم شناس ہوتا تو جوزیادہ تر لوگ اس کی کابینہ میں وزیر ہیں وہ ہرگز اس کی ناﺅپربوجھ نہ ہوتے۔عمران خان کی نیت کا بھرم بھی جاتارہا ، اگر انسان کی نیت اچھی اورسچی ہوتواوراس میں قدرت کی خاص عنایت سے خدادادصلاحیت بھی پیداہوجاتی ہے۔کپتان کنٹینر پرکھڑے ہوکرصرف ڈینگیں مارتا رہا ۔حقیقت میںاقتدار واختیار نے کپتان کوبے نقاب کردیاہے،جووزیراعظم پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدارکوتبدیل نہیں کرسکتا اس کے ہاتھوں ملک میں کسی بڑی تبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔اناانسان کواندر سے بری طرح فنااورتنہاکرتی چلی جاتی ہے،انسان کے پیارے باری باری اس سے منہ موڑجاتے ہیں۔ خودپسند انسان اپنے محسوسات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔تکبر کرنیوالے تدبروتدبیر کی نعمت اور صلاحیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔

عمران خان نے ممتازقانون دانوں اورسیاسی داناﺅں جسٹس(ر) وجہیہ الدین،حامدخان اوربزرگ وزیرک سیاستدان سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ کوخودسے دورکرلیا جبکہ وہ بردباروں کی بجائے اس وقت بزداروں اورسیاسی شعبدہ بازوں کے حصار میں ہے ۔

عمران خان نے حکمران جماعت کے” دانا”افراد سے اپناہاتھ چھڑا کراپنی ”انا”کادامن تھام لیا۔عمران خان بھی اپنے پیشرووزرائے اعظم کی طرح ”سیاسی بونوں” کے ہجوم میں خوش رہتا ہے،اللہ جانے ہمارے حکمرانوں کو داناﺅں کی صحبت میں اپنا وجود چھوٹاکیوں لگتا ہے جبکہ وہ منظم خوشامد سے اس قدرخوش اورسیاسی بھانڈوں پراس قدرمہربان کیوں ہوتے ہیں ۔کپتان کا کوئی انتخابی وعدہ وفانہیں ہوا، یادر ہے وفاق اورپنجاب میں دھڑا دھڑ ”تبادلے” کرنے سے ”تبدیلی ”نہیں آئے گی۔

پنجاب میں جس بزدار کوشروع دن سے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی اس کی نادانیاں اورناکامیاں چھپانے کیلئے وزیراعظم نے چارچیف سیکرٹری اورچارآئی جی دربدر کرد یے ۔پاکستان میں تعمیری تبدیلی کاروڈ میپ “تحریک انصاف” نہیں “انصاف ” جبکہ ٹائم فریم بروقت اورسخت احتساب سے وابستہ ہے۔کاش اس ملک میں” تحریک انصاف” نہیں ” انصاف” کا”راج” اور”سچائی تک رسائی” کا”رواج” ہوتا تو اس صورت میں یقینا ہماراپاکستان آج ترقی کی “معراج” پرہوتا۔چوراپنے بچاﺅکیلئے سیاسی انتقام کاشورمچایاکرتے ہیں ، ہماری ریاست ہماری ماں ہے لہٰذا مادروطن کے نازک کندھوں سے بیرونی قرض کابھاری بوجھ اتارنے جبکہ اقتدارکے اعلیٰ ایوانوں اورسرکاری ونیم سرکاری اداروں میں شب وروزہونیوالی بدعنوانی کاباب بندکرنے کیلئے نیب کے” پر” نہیں چوروں کے” ہاتھ” کاٹناہوں گے۔

محمد ناصراقبال خان سینئر کالم نگار ہیں اور وہ گذشتہ کئی سالوں سے مختلف اخبارات میں کالم لکھ رہے ہیں.


About

Leave Comment

Skip to toolbar