Saturday , August 8 2020

خالو شریف نیب کے شکنجے میں

خالو شریف نیب کے شکنجے میں

قمر جبار

اماں بتاتی ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کے ایک ہولناک دریا کو عبور کرتے ہوئے انکی ایک سہیلی حیدرآباد شفٹ ہو گئ۔۔رفتہ رفتہ جب خاندانوں کے بچھڑے ہوئے لوگ رابطے میں آئے تو اماں مرحومہ کو بھی ان کی بچپن کی سہیلی سے قدرت نے ملا دیا۔ والدہ کی دعوت پر وہ لاہور آئیں، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، آپس کے دکھ سکھ بانٹے اور کچھ روز کی رفاقت کے بعد وہ اپنے گھر کو ہو لیں۔ سہیلی سے جدا ہونے کا غم اپنی جگہ لیکن اماں کچھ روز تک بہت اداس رہیں اور جائے نماز پر ان کی دعاؤں کا دورانیہ کچھ زیادہ ہی طویل ہو گیا۔ میرے دریافت کرنے پر پہلے تو وہ حسب راویت ٹال مٹول سے کام لیتی رہیں لیکن پھر ایک رات راز کھول ہی دیا۔ بتاتی ہیں کہ وہ اپنی سہیلی اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کے لئے زیادہ دعا کرتی ہیں۔ ان کی سہیلی جب بھی دسترخوان پر بیٹھتی تو بچوں کے بچائے ہوئے روٹی کے ٹکروں کو زیادہ رغبت سے کھاتی۔۔بقول اماں جی پہلے تو وہ صرف دیکھتی رہیں لیکن ایک بار استفسار کرنے پر سہیلی نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے حقیقت بتا ہی دی۔ شگفتہ خالہ نے بتایا کہ بہن کیا بتاؤں کہ مجھے ان روٹی کے ٹکرے کھانے سے کیا سکون ملتا ہے۔ تمھارے بھائی ریلوے میں ایک معمولی سے آفیسر تھے۔ مبینہ کرپشن کے الزام میں انہیں معطل کر دیا گیا۔ گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئ۔ کیس تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ان حالات میں انہوں نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا جو روکھی سوکھی مل جاتی کھا لیتے۔ ایسے مشکل حالات میں بچے جو روٹی کے ٹکرے چھوڑ دیتے وہ یہی کھا کر گزارا کرتیں۔ آخر کار تمھارے بھائی صاحب بے قصور ثابت ہونے کے بعد نوکری پر بحال ہوئے اور کچھ عرصے بعد قرضوں کے بوجھ اتارنے کے بعد زندگی اپنی ڈگر پر آ گئ۔

موجودہ حالات کے تناظر میں مجھے اماں مرحومہ کی بتائی وہی یہ ایک افسردہ سی کہانی یاد آ گئ۔ لیکن اب تو حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اچھا ہی ہوا کہ والدہ مرحومہ آجکل کے دور میں ہونے والی کرپشن اور اعلی عدلیہ کی طرف سے آنے والے فیصلوں کو پڑھنے، سننے اور دیکھنے کے عمل سے پہلے ہی آزاد ہو گئیں۔ انیس سو چھیانوے میں دو تہائی اکثریت کی حامل جماعت کی کوکھ سے جنم لینے والا قومی احتساب بیور بیس سال تک ایک ریفائنری سے گزرتا ہوا شائد اب ایک مستحکم ادارہ بن گیا ہے۔ اماں کی سہیلی کے شوہر شریف خان تو بیوی بچوں کو فاقوں کی بھٹی میں دھکیل کر بالاخر بری ہو گئے ۔ اسی طرح گذشتہ بیس سال میں کئ نام نہاد شریف زادے بھی نیب کی بھٹی سے گزر کر آزادی کا سانس لے رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ نیب نے ابھی دودھ کے دانت نہیں نکالے تھے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو کاٹنا شروع کر دیا لیکن ہوا وہی کہ جیسے معصوم بچے کے کاٹنے کی تکلیف لوگ برداشت کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے بھی جیلوں میں رہ کر یہ تکلیف کاٹی اور آخر میری اماں کی سہیلی کے شوہر شریف خان کی طرح کسی بھی قسم کے فاقے کاٹنے اور مقروض ہونے کی ہزیمت سے بچتے ہوئے پاک صاف ہو کر دوبارہ سیاسی افق پر پوری آب و تاب سے رونما ہو گئے۔
نیب کا ادارہ تشکیل دینے والوں کو شائد اس حقیقت کا علم نہیں تھا کہ سن بلوغت کو پہنچے پر اس کے دانت اتنے تیز ہو جائیں گے کہ یہ جس کو کاٹے گا وہ بچ نہیں پائے گا۔ سیاسی مخالفین تو نیب جھیل بیٹھے اور کچھ اب بھی جھیل رہے ہیں لیکن جیسے ہی اس ادارے کے ماسٹر مائینڈ پر ہاتھ پڑا تو ملکی وسائل کی لوٹ مار کی ایسی داستانیں سامنے آئیں کہ میرے سابقہ ریلوے افیسر، خالو مرحوم شریف خان کی روح تو ویسے ہی کانپ گئ ہو گی لیکن بڑے بڑوں کی روح ضرور قبض ہوتے نظر آ رہی ہے۔
ظاہر ہے سیاسی وابستگی تو ہوتی ہی ہے اور ایک با اثر شخصیت یا خاندان کی بات ہو تو حقائق کو تسلیم کرنا اور بھی دشوار ہوتا ہے۔ سنجیدگی سے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ موجودہ دور میں کھولے گئے کرپشن اسکینڈلز میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے لیکن حقیقت کو بعض لوگ تسلیم کرنے تو تیار نہیں۔ اعلی عدلیہ میں چلنے والے ہائی پروفائل کرپشن مقدمات پر قوم کو گمراہ کرنے کے لئے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تو دوسری طرف ماہرین قوم کی سوچ کو صحیح دھارے کی طرف لانے کی کوشش میں بھی ہیں۔ ہائی پروفائل کرپشن، وائٹ کالر کرائم اور منی لانڈرنگ، ان جرائم کے عوام الناس نے صرف نام سن رکھے ہیں لیکن شائد اب ان کی حقیقت سامنے آنے کا وقت قریب آ چکا ہے۔ کیا خوب کہا تھا صوبیدار خوشی محمد نے جو کالج کے زمانے میں ہمیں این سی سی کی ڈرل کرایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان ایسا درخت ہے جسے ہر کوئی نوچ کر کھا رہا ہے لیکن آللہ تعالی کے فضل سے یہ ہمیشہ ہرا بھرا رہے گا۔۔۔ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر کہ اب عوام کو بھی سوچنا ہو گا کہ ہمیں اس درخت کو سوکھنے سے بچانا ہے ورنہ خالو شریف خان کی طرح ہمارے بچے بھی بھوک و افلاس سے مر جائیں گے
دور حاضر کے خالو شریف کیا جانیں کہ آزمائش کیا ہےکیونکہ طاقتور طبقے کے لئے تازہ ہوا سے لیکر کر علاج و معالجہ کی سوچ بھی اب لندن جا کر دم توڑتی ہے۔ دور حاضر کے ایک خالو شریف بھی میڈیکل گرآونڈ پر بیرون ملک ہیں ان کی میڈیکل رپورٹس کچھ بھی ہوں لیکن پارکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد نہ جانے کیوں انکی بیماری کی وجہ سے ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ کاش ان حالات میں کوئی آڈر آف دی ڈے آ جائے کہ عوام حوصلہ رکھیں ، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں۔

قمر جبار ایک سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے انگلش، اردو اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان کا دس سال کا الیکٹرونک میڈہا کا بھی تجربہ ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں اور بےباک تبصرے قارئین کی توجہ کا ہمیشہ مرکز رہے ہیں۔ ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.
qamar1200@hotmail.com


About

Leave Comment

Skip to toolbar