Saturday , April 17 2021

حکومت کو مینو فیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک پر کشش سرمایہ کاری پیکیج تشکیل دینا چاہیے، ایس ایم نوید

لاہور مارچ 12 (اعتماد نیوز) پاک چین جواینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایس ایم نوید نے کہا ہے کہ ملک میں پچا س ملین ملازمتوں کا ہدف حا صل کرنے کیلئے حکومت کو مینو فیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک پر کشش سرمایہ کاری پیکیج تشکیل دینا چاہیے۔

یہ بات انہوں نے آج پاک چین چیمبر کے تھنک ٹینک کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پاک چین چیمبر کے سینئر نائب صدر داؤد احمد، نائب صدر خالد رفیق چوہدری، جنرل سیکرٹری صلاح الدین حنیف اور متعدد اراکین مجلس عاملہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ ایس ایم نوید نے کہا کہ ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کر نے کیلئے ضروری ہے کہ ہماری معیشت سالانہ تین سے آٹھ فیصدی کی شرح سے ترقی کرے اور ہماری سرمایہ کاری کی شرح 30 فیصدی تک ٹھہریؤؤ رہے۔ انہوں نے کہا کہ سروسز سیکٹر کا فروغ بھی ملک کیلئے مفید ہے مگر اس کا حقیقی فائدہ تبھی ہے کہ اس شعبہ سے ٹیکسوں کی وصولی میں بھی اضافہ ہو۔بصورت دیگر سروسز سیکٹر کچھ نوکریاں تو پیدا کر تا ہے مگر عام آدی کی زندگی پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ٹیکسوں کے حوالے سے پاک چین چیمبر کے صدر نے کہاکہ حکومت کو پرانے ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مزید بوچھ لادنے کی بجائے نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرکے ٹیکسوں کے دائرہءِ کار کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔

اس موقع پر پاک چین چیمبرکے سینئر نائب صدر داؤداحمد نے کہا ہے جس طرح چین نے ریکارڈ ٹائم میں سرمایہ کاری کی شرح کو 38 فیصدی تک لیجانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے پاکستان کو بھی ویسے ہی اقدامات کر کے اپنی سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ کرنا چاہیے جوکہ اس وقت صرف 19 فیصد کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے حکومت کو بزنس فرینڈلی پالیسیاں متعارف کرانی چاہییں اور کاروبار ی اخراجات کو کم سے کم سطح پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاک چین چیمبر کے نائب صدر خالد رفیق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہرسال تقریباََ تیس لاکھ نوجوان نوکریوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور صرف نو لاکھ نوجوان کونوکریاں ملتی ہیں جوکہ ایک بہت ہی خطرنات صورتحا ل کا اظہارہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ہر سال بجٹ تجاویز کے طور پر افزائش روزگار اور ٹیکسوں میں اضافے کیلئے قابل عمل تجاویز پیش کر تی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے بجٹ سازی کے عمل میں مقامی سٹیک ہولڈرز سے زیادہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا عمل دخل ہے جس کی وجہ سے ہماری تجاویز کو زیادہ پزیرائی حاصل نہیں ہو پاتی۔

صلاح الدین حنیف نے کہا کہ اگر حکومت اپنی مجبوریوں کی وجہ سے کاروباری برادری کو ریلیف دینے سے قاصر ہے تو اسے اپنے اعلانیہ دعووں ؤ کے مطابق ٹیکسوں کے نظام کو بھی کرپشن سے پاک بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔انہوں نے اس امر پرؤؤ تشویش کا اظہار کیا کہ ملکی ریکارڈ کے مطابق بجلی کے انڈسٹریل کنکشنو ں کی تعداد چار لاکھ ہے جبکہ ان میں سے ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 47800 ہے۔ اتنا بڑا تفاوت ٹیکسوں کی وصولی کے کرپٹ نطام ہی کی وجہ سے ہے۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar