Tuesday , October 20 2020

’حجاب‘ فیشن کی مقبولیت میں اضافہ

گزشتہ چند برس سے جہاں دنیا بھر میں صنفی تفریق، رنگ و نسل، عقائد اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں تفریق کیے جانے پر کھل کر بات ہونے لگی ہے۔
وہیں دنیا بھر میں لباس اور فیشن کے حوالے سے بھی کئی واضح تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں.عالمی سطح پر جہاں حجاب، نقاب اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والے اسلامی طرز کے لباس کے خلاف نفرت دیکھی گئی اور ایسے لباس پر بعض ممالک کی جانب سے پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

وہیں فیشن انڈسٹری کی دنیا میں اس کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا اور کئی ملٹی نیشنل برانڈز نہ صرف حجاب کے دیدہ زیب ڈیزائن تیار کیے بلکہ دنیائے فیشن میں جسم کو مکمل ڈھانپنے والے لباس بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔


فیشن کی دنیا میں کئی سال تک ’نیم عریاں‘ لباس اور فیشن کا بول بالا رہا، تاہم اب دنیا بھر میں ’موڈیسٹ فیشن‘ کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، جس کا اندازہ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ہونے والے پہلے ’موڈیسٹ فیشن شو‘ سے لگایا جا سکتا ہے۔
میلبورن میں ہونے والے موڈیسٹ فیشن شو مین آسٹریلیا کے بڑے برانڈز نے اپنی دیدہ زیب ملبوسات پیش کیں۔


موڈیسٹ فیشن شو‘ دراصل ایسا فیشن شو ہوتا ہے جس میں ڈھیلے لباس سمیت جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والے اسلامی طرز کے لباس متعارف کرائے جاتے ہیں۔
میلبورن سے قبل ایسے شو یورپ کے چند بڑے شہروں میں بھی منعقد ہوچکے ہیں اور رواں ماہ کے آخر تک امریکا میں بھی پہلی مرتبہ ایسے فیشن شو کا انعقاد ہوگا۔اگرچہ ان فیشن شوز کو ’موڈیسٹ فیشن شو‘ کو نام دیا گیا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ اور دیگر مسلم آبادی والے ممالک میں ان فیشن شوز کو ’مسلم فیشن شو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔


About

Muhammad Imran Khan Lohani

Leave Comment

Skip to toolbar