Saturday , October 31 2020

جدوجہد عمران خان کے نہیں ان کو لانے والوں کیخلاف ہے، نواز شریف

جدوجہد عمران خان کے نہیں ان کو لانے والوں کیخلاف ہے، نواز شریف

اگرہم آج فیصلے نہیں کرینگے تو کب کرینگے ؟

ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کانفرنس کو با مقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو مایوسی ہوگی

یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے

عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور نتیجتاً متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے

2018 کے انتخابات کے بعد متعدد ملکی اور غیر ملی اداروں کی طرف سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے

انتخابات ہائی جیک کرکے انتخابات چند لوگوں کو منتقل کردینا بہت بڑی بددیانتی اور آئین شکنی ہے

2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس گھنٹوں کیوں بند رکھا گیا، گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا

انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کس کے کہنے پر کس کےلئے کی گئی اور کونسے مفادات کےلئے کی گئی، اس پر سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمشنر کو بھی جواب دینا ہوگا اور جو لوگ بھی دھاندلی کے ذمہ دار ہیں ان سب کو حساب دینا ہوگا

یاد رکھیں پاکستان میں اگر ووٹ کو عزت نہ ملی اور قانون کی حکمرانی نہ آئی تو یہ ملک معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا

موٹر وے پر دل دہلادینے والاواقعہ پیش آیا ،حکومت کی ہمدردیاں قومی کی بیٹی کے بجائے اپنے چہیتے پولیس افسر کے ساتھ ہیں

اب بھارت نے غیرنمائندہ، غیرمقبول اور کٹھ پتلی پاکستانی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور ہم احتجاج بھی نہیں کرسکے، دنیا تو کیا ہم اپنے دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکے

ملک میں خارجہ پالیسی بچوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے

سی پیک کے ساتھ پشاور بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا، جہاں کئی سال گزر گئے، منصوبے سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوچکی مگر نتیجہ آج بھی آنکھوں سے اوجھل ہے

نیب اندھے حکومتی اقدامات کا آلہ کار بن چکا ہے، ایک آمر کے بنائے ہوئے ادارہ کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی، اے پی سی سے خطاب

عمران خان کے پاس زمان پارک گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے، کیا کوئی پوچھے گا؟ سابق وزیر اعظم

اسلام آباد (اعتماد نیوز) سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں ان کو اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے ،اگرہم آج فیصلے نہیں کرینگے تو کب کرینگے ؟ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کانفرنس کو با مقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو مایوسی ہوگی ،یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے،عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور نتیجتاً متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے،2018 کے انتخابات کے بعد متعدد ملکی اور غیر ملی اداروں کی طرف سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے،انتخابات ہائی جیک کرکے انتخابات چند لوگوں کو منتقل کردینا بہت بڑی بددیانتی اور آئین شکنی ہے،2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس گھنٹوں کیوں بند رکھا گیا، گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا، انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کس کے کہنے پر کس کے لیے کی گئی اور کونسی مفادات کے لیے کی گئی، اس پر سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمشنر کو بھی جواب دینا ہوگا اور جو لوگ بھی دھاندلی کے ذمہ دار ہیں ان سب کو حساب دینا ہوگا،یاد رکھیں پاکستان میں اگر ووٹ کو عزت نہ ملی اور قانون کی حکمرانی نہ آئی تو یہ ملک معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا، موٹر وے پر دل دہلادینے والاواقعہ پیش آیا ،حکومت کی ہمدردیاں قومی کی بیٹی کے بجائے اپنے چہیتے پولیس افسر کے ساتھ ہیں،اب بھارت نے غیرنمائندہ، غیرمقبول اور کٹھ پتلی پاکستانی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور ہم احتجاج بھی نہیں کرسکے، دنیا تو کیا ہم اپنے دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکے،ملک میں خارجہ پالیسی بچوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے،سی پیک کے ساتھ پشاور بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا، جہاں کئی سال گزر گئے، منصوبے سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوچکی مگر نتیجہ آج بھی آنکھوں سے اوجھل ہے،نیب اندھے حکومتی اقدامات کا آلہ کار بن چکا ہے، ایک آمر کے بنائے ہوئے ادارہ کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی ۔

اتوار کو یہاں آل پارٹیز کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا ایک روز قبل میری بلاول بھٹو سے بات ہوئی اور انہوں نے جس پیار، محبت سے مجھ سے بات کی، میں اسے کبھی نہیں بھلا پاؤں گا.

سابق وزیراعظم نے کہاکہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں، یہ کانفرنس نہایت اہم موقع پر منعقد ہورہی ہے بلکہ میں تو اسے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج فیصلے نہیں کریں گے تو کب کریں گے، میں مولانا فضل الرحمن کی سوچ سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو بہت مایوسی ہوگی۔

نواز شریف نے کہا کہ ابھی آصف زرداری نے جو ٹرینڈ سیٹ کیا ہے اسی کو آگے لیکر چلنا ہے، آپ سب جانتے ہیں 73 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، یعنی ملک انتظام وہ لوگ چلائیں جنہیں عوام اپنے ووٹوں کی اکثریت سے یہ حق دیں جبکہ ہمارے آئین کی ابتدا بھی انہیں الفاظ سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے پر ہے لیکن جب جمہوریت کی اس بنیاد پر ضرب لگتی ہے اور ووٹ کی عزت کو پامال کردیا جاتا ہے تو سارا جمہوری عمل بالکل بے معنی اور جعلی ہوکر رہ جاتا ہے، جب عوام کی مقدس امانت میں خیانت کی جاتی اور انتخابی عمل سے پہلے یہ طے کرلیا جاتا کہ کسے جتانا اور ہرانا ہے اور انتخابات میں دھاندلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے جاتے ہیں جبکہ رہی سہی کسر حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں نکال دی جاتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے اور عوام کا مینڈیٹ کس طرح چوری کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو اس طرح کے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے، کبھی کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو اسے ہر طرح کی سازش کے ذریعے سے پہلے بے اثر اور پھر فارغ کردیا جاتا ہے، اس سے یہ بھی پروا نہیں کی جاتی کہ اس سے ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا، اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہوئی اور عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ بات پاکستان کے بچے بچے کہ زبان پر ہے کہ 73 سال کی تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی 5 سال کی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ہر آمر نے ملک میں اوسطاً 9 سال غیرآئینی طور پر حکومت کی جبکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو اوسطاً 2سال سے بھی زیادہ کا عرصہ شاید ہی ملا ہو۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مہم جوئی کو روکنے کے لیے 1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 ڈالا گیا لیکن اس کے باوجود بھی 20 سال جرنیلی آمریت کی نذر ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک آمر کو آئین شکنی کے جرم میں پہلی بار عدالت میں لایا گیا تو آپ سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، مجھے یہ کہنے میں دکھ ہوتا ہے کہ جس طرح ہرمارشل لا کو عدالتوں نے جائز قرار دیا، آمروں کو آئین سے کھلواڑ کرنے کا اختیار دیا، اسی طرح 2 مرتبہ آئین توڑنے والوں کو بریت کا سرٹیکیٹ بھی عدالتوں نے دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس آئین پر عمل کرنے والے کٹہروں میں کھڑے ہیں یا جیلوں میں پڑے ہیں، ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہوگیا، یہاں صرف ایک آمر پر مقدمہ چلا، خصوصی عدالت بنی، کارروائی ہوئی، اسے آئین و قانون کے تحت سزا سنائی گئی لیکن ہوا کیا؟ کیا وہ ملک میں آگیا اور اسے سز ملی؟ بلکہ ہوا تو یہ کہ وہ عدالت ہی غیر آئینی قرار دے دی گئی۔

نواز شریف نے کہاکہ پاکستان میں یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ کسی آمر کے بڑے سے بڑے جرم پر کوئی کارروائی نہ ہو، اگر کارروائی ہو بھی جائے تو کوئی اسے چھو بھی نہ سکے اور اگر کوئی فیصلہ آ بھی جائے تو صرف سزا ہی نہیں بلکہ عدالت کو بھی ہوا میں اڑا دیا جائے لیکن یہ سب آخر کب تک ؟

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ان سیاست دانوں کو دیکھیے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے، تو اس میں کوئی قتل ہوگیا، کوئی پھانسی چڑ گیا، کوئی ہائیجیکر بن گیا، کسی کو چور اور غدار قرار دیا گیا تو کسی کو جلا وطن کردیا گیا اور کوئی عمر بھر کے لیے نااہل ہوگیا، ان کے گناہ اور سزائیں ختم ہونے میں آ ہی نہیں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹے مقدمات میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ پیشیاں بھگت رہے ہیں، دراصل یہ سلوک پاکستان کے عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے اور سزا بھی انہیں مل رہی ہے، اگر عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں، کس طرح عوامی نمائندوں کی تزلیل ہوتی ہے، کس طرح کردار کشی کا ایک منظم سلسلہ شروع ہوجاتا، کس طرح قومی مفاد کے خلاف کسی سرگرمی کی نشاندہی کرنے پر انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے، ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے جسے برداشت نہیں کیا جاستا، تاہم دکھ کی بات یہ ہے کہ اب معاملہ ریاست کے اوپر ریاست تک جاپہنچا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور نتیجتاً متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے، 2018 کے انتخابات کے بعد متعدد ملکی اور غیر ملی اداروں کی طرف سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے، میں جیل میں تھا لیکن مجھے سب خبریں ملتی رہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان حلقے جہاں نتائج تبدیل کیے گئے ان کی تعداد اتنی ہے کہ اگر وہاں نتائج نہ تبدیل ہوتے تو بیساکھیوں پر کھڑی یہ حکومت کبھی وجود میں نہیں آسکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج قوم جن حالات سے دوچار ہے اس کی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کی رائے کے خلاف نااہل حکمرانوں کو قوم پر مسلط کیا، انتخابات ہائی جیک کرکے انتخابات چند لوگوں کو منتقل کردینا بہت بڑی بددیانتی اور آئین شکنی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم چند روپے کی خاطر ڈاکا ڈالنے والوں کے لیے بڑی سے بڑی سزا کا تقاضہ کرتے ہیں لیکن عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا کتنا سنگین جرم ہے کیا کبھی کسی نے سوچا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس گھنٹوں کیوں بند رکھا گیا، گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا، انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کس کے کہنے پر کس کے لیے کی گئی اور کونسی مفادات کے لیے کی گئی، اس پر سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمشنر کو بھی جواب دینا ہوگا اور جو لوگ بھی دھاندلی کے ذمہ دار ہیں ان سب کو حساب دینا ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ اس نااہل حکومت نے 2 برسوں میں ملک کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے، اس کا کوئی اندازہ لگاسکتا ہے، پاکستان کی معیشت بالکل تباہ ہوچکی ہے، 5.8 کی شرح ترقی سے بڑھتا ہوا پاکستان آج صفر سے بھی نیچے جاچکا ہے، پاکستانی روپیہ بھارت اور بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ افغانستان اور نیپال سے بھی زیادہ نیچے گرچکا ہے، جس مہنگائی پر ہم نے مکمل قابو پالیا تھا وہ آج کئی گنا بڑھ گئی ہے، غریب اور متوسط گھرانوں کے لیے 2 وقت کی روٹی محال ہوگئی ہے، بجلی اور گیس کے بل عام آدمی پر بم بن کر گرتے ہیں، گزشتہ 2 سال میں ڈیڑھ کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے جاچکے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والے ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کا روزگار چھین چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نالائق حکومت نے ہر معاملے پر یوٹرن لیا ہے، آج سرمایہ کاری بالکل ختم ہوچکی ہے، سی پیک سخت الجھن کا شکار ہے، قرضے ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے 2 سال کی قلیل مدت میں قرضوں میں اتنا اضافہ کردیا ہے جس سے گزشتہ سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جبکہ 2 سال میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان جس کے بارے میں بین الاقوامی ادارے یہ پیش گوئی کر رہے تھے یہ 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا آج معاشی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ یاد رکھیں پاکستان میں اگر ووٹ کو عزت نہ ملی اور قانون کی حکمرانی نہ آئی تو یہ ملک معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا.

انہوں نے کہاکہ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایسے ممالک اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں رہتے خاص طور پر اس وقت جب آپ کے دشمن آپ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔

لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آئے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے، اس سانحے کے بعد مزید تکلیف کا باعث اس ‘سنگ دل’ پولیس افسر کا ہے جو بنیادی انسانی اقدار سے بھی محروم ہے، اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت کی ہمدردیاں قومی کی بیٹی کے بجائے اپنے چہیتے پولیس افسر کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصان اور ہزاروں جانیں قربان کرنے کے باوجود ہم کبھی ایف اے ٹی ایف اور کبھی کسی اور کٹہرے میں کھڑے شرمناک صفائیاں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ کشمیر کا نام جب سامنے آتا ہے تو 73 سال سے دی جانے والی قربانیاں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں، کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ کئی سال سے جاری ہے لیکن اسے ہڑپنے کا سلسلہ کبھی نہیں ہوا لیکن اب بھارت نے غیرنمائندہ، غیرمقبول اور کٹھ پتلی پاکستانی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور ہم احتجاج بھی نہیں کرسکے، دنیا تو کیا ہم اپنے دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے، کیوں دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے، کیوں ہمارے درینہ اور شانہ بشانہ کھڑے ہونے والے ممالک دور ہوگئے، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت وہ بیانات دیے جس سے ہماری درینہ دوست سعودی عرب کی دل شکنی ہوئی، پاکستان کو اپنے دوست ممالک کی دل آزاری کا اعتراف کرنا چاہیے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب لیا جائے، ملک میں خارجہ پالیسی جو بچوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے، یہاں موجود سابق وزرائے اعظم جانتے ہیں کہ سول حکومت کے گرد کس طرح کے شکنجے کس لیے جاتے ہیں، کس طرح ایسی کارروائیاں ہوجاتی ہیں جس کا وزیراعظم، صدر کو علم ہی نہیں ہوتا اور پھر ان کارروائیوں کی بھاری قیمت ریاست کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنی، ثبوت کسی کے خلاف کچھ نہیں تھا لیکن پروپیگنڈہ مشینوں کے ہاتھوں مجھے بھی غدار اور ملک دشمن ٹھہرادیا گیا،وزیراعظم کے احکامات کو ایک ماتحت ادارے کی طرف سے کی گئی ٹوئٹ میں مستردکا عنوان دے دیا گیا۔سی پیک سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کا سلسلہ2014 میں اس وقت شروع ہوا جب دھرنوں کے ذریعے چین کے صدر کا دورہ ملتوی کروا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب سی پیک کے ساتھ پشاور بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا، جہاں کئی سال گزر گئے، منصوبے سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوچکی مگر نتیجہ آج بھی آنکھوں سے اوجھل ہے، آئے دن بسوں میں آگ لگ جاتی اور بارش ناقص تعمیر کا پول کھول کر رکھ دیتی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آمر کے بنائے ہوئے اس ادارے کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی لیکن یہ سچ ہے کہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ادارہ اس حد تک گرسکتا ہے، یہ ادارہ نہیں بلکہ اندھے حکومتی اقدامات کا آلہ کار بن چکا ہے، اس کے کئی سینئر اہلکاروں کے گھناؤنے کردار فاش ہوچکے ہیں، اس ادارے کا چیئرمین جاوید اقبال اپنے عہدے اور اختیارات کا انتہائی نازیبا اور مذموم استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے مگر نہ تو کوئی انکوائری ہوتی اور نہ ہی کوئی ایکشن لیا جاتا ہے جبکہ نہ ہی شفافیت کے دعویدار عمران خان پر کوئی جوں رینگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود یہ شخص ڈھٹائی سے اپنے عہدے پر براجمان، انتقام کے ایجنڈے پر عمل کرتا ہے لیکن بہت جلد ان سب کا یوم حساب آئے گا، بین الاقوامی ادارے اور ہماری اعلیٰ عدالتی نیب کے منفی کردار پر واضح رائے دے چکی ہیں، یہ ادارہ انتہائی بدبودار ہوچکا ہے، اپوزیشن کے لوگ اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جو اپنے گھر کی خواتین کے سامنے عدالتوں میں رل رہے ہیں، جو نیب سے بچے وہ ایف آئی اے کے حوالے کردیا جاتا اور جو وہاں سے بچتا ہے اسے انسداد منشیات فورس کے ہتھے چڑ جاتا جبکہ جو وہاں سے بچتا ہے اسے کسی بھی جھوٹے مقدمے میں پکڑ لیا جاتا ہے۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar