Saturday , August 8 2020

بھاشا ڈیم کے حوالے سے میرے خدشات ہیں،خدشہ ہے دیا میر بھاشا ڈیم کی لاگت 4 ہزار 80 ارب روپے ہوجائے گی، احسن اقبال

اعتماد نیوز

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی نے ورکنگ پیپر 24گھنٹے قبل نہ ملنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کو سنجیدہ نہیں لیا جارہاہے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلاس جنید اکبر کی زیر صدارت ہوا جس میں داسو پن بجلی منصوبے مالکان کو اراضی کی ادائیگی کے معاملے پر بریفنگ دی گئی ۔

احسن اقبال نے کہاکہ ہمیں کمیٹی ایجنڈے کی پوری دستاویزات ہی فراہم نہیں کی گئی ،ہم یہاں لیکچر سننے نہیں آئے ۔ انہوںنے کہاکہ جو ڈیپارٹمنٹ کمیٹی کو ایجنڈا کی دستاویزات بر وقت فراہم نہیں کرتا ان کا ٹی اے ڈی اے بند کیا جائے ۔انہوںنے کہاکہ ایجنڈے کے مطابق دستاویزات فراہم نہ کرنےوالوں کو جرمانہ بھی ہو نا چاہئے ۔کمیٹی نے داسو پن بجلی منصوبے کی زمین خریداری اور ادائیگی سے متعلق ایجنڈا موخر کر دیا۔

چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی کیسے بنائی گئی ،کیا پی ایس ڈی پی کی تیاری میں کوئی غربت کا سروے سامنا رکھا گیا ۔کمیٹی اراکین نے ورکنگ پیپر 24 گھنٹے قبل نہ ملنے پر اسپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ کمیٹی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ۔ ڈی سی مانسہرہ نے بتایاکہ مانسہرہ ایئرپورٹ کے لیے فنڈز کی فراہمی روک دی گئی ہے ،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نظر ثانی شدہ پی سی ون پیش کرنے کا کہا ہے،مانسہرہ ایئرپورٹ کی مجوزہ اراضی سے سیکشن فور ہٹا دیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ وزارتوں کی حالت یہ ہے کہ کسی منصوبے کا پی سی ون تیار نہیں کرسکتے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ موجودہ حکومت نے وزارتوں کو 2 ارب روپے کے منصوبے تیار کرنےکی اجازت دی گئی ہے ،وزارتوں کو یہ اختیار کس بنیاد پر دیا گیا،نون لیگ نے اپنے دور میں 700 ارب روپے کی بچت کی۔

احسن اقبال نے کہاکہ میں نارووال اسپورٹس سٹی کا ریفرنس بھگت رہا ہوں،الزام لگایا گیا کہ اسپورٹس صوبائی معاملہ ہے یہ نارووال اسپورٹس سٹی کیسے بنایا گیا،موجودہ پی ایس ڈی پی میں یونین کونسل سطح کے منصوبے شامل کردیے گئے،اس بنیاد پر تو ان منصوبوں پر بھی ریفرنس بننے چاہئیں ۔

احسن اقبال نے کہاکہ یا پھر کم از کم مجھے رعایت دی جائے،بھاشا ڈیم کے حوالے سے میرے خدشات ہیں،اس کا پی سی ون اپریل 2018 میں منظور ہوچکا ہے،اس منصوبے میں غیر ملکی امداد شامل ہے،دو سال پرانا پی سی ون غیر متعلقہ ہوچکا ہے۔احسن اقبال  نے کہاکہ 2018 میں ڈالر 105 روپے کا تھا آج 170 روپے کا ہے،دیا میر بھاشا ڈیم کا فنانشل کلوز نہیں کیا گیا،چیئرمین واپڈا کا بیان ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی لاگت 480 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہاکہ خدشہ ہے دیا میر بھاشا ڈیم کی لاگت 4 ہزار 80 ارب روپے ہوجائے گی۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں واپڈا یہ بنائے کہ بھاشا ڈیم کا فنانشل کلوز کر لیا گیا ،ہم نہیں چاہتے کہ بھاشا ڈیم کا حال بھی نیلم جہلم پن بجلی منصوبے جیسا ہو ،سندھ انفراسٹرکچر کمپنی کیسے بن گئی ،ایک سابق چیف جسٹس نے پنجاب میں ایسی تمام کمپنیاں بند کر نے کا حکم دیا تھا ۔ کابینہ ڈویژن حکام نے کہاکہ سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کابینہ ڈویژن کے تحت چل رہی ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ وفاقی اور صوبوں میں دو الگ الگ قانون ہیں ۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar