Tuesday , December 1 2020

امریکہ حملہ نہ کرنے کی گارئنٹی دے تو ملا عمر اسامہ بن لادن کو ملک بدر کر دے گا۔وہ کونسا ملک تھا جس نے ملا عمر کی آفر ٹھکرا دی تھی ا

اعتماد نیوز ایسےافغان جنگ کے حقائق سے پردہ اٹھا رہا ہے جن سے عام لوگ آگاہ نہیں ہیں

یہ تاثر بکل غلط تھا کہ ملا عمر کسی صورت بھی اسامہ بن لادن سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔جب جنرل مشرف کے دور میں امریکہ کے افغانستان حملے سے پہلے پاکستان کا ایک اعلیَ سطحی وفد حکومت پاکستان کا پیغام لے کر ملا عمر سے ملنے کے لیے قابل پہنچا تو وفد کے تمام اراکین نے ملا عمر پر زور دیا کہ وہ خطے کو تباہی سے بچانے کے لیے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے،اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اسے کسی بھی اسلامی ملک میں اسامہ بن لادن کو بھیجا جا سکتا ہے۔اگر یہ بھی صورت قابل قبول نہیں تو طالبان کو چاہیئے کہ وہ اسامہ بن لادن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے اور یہ اس پر چھوڑ دے کہ وہ کہاں جانا چاہتا ہے۔لیکن ملا عمر نے یہ کہہ کر وفد کی تمام تجاویز کو رد کر دیا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیَ کی طرف سے نشانیاں ظاہر کی گئی ہیں کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کی صورت میں فتح طالبان کی ہو گی۔ وفد مایوس پاکستان لوٹ آیا۔
اگرچہ طالبان حکومت نے پاکستانی وفد کی اس بات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی لیکن حقیقت یہ تھی کہ جب امریکی طیاروں نے کابل پر بمباری کی تو ملا عمر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گیا۔
لیکن آزاد میڈیا زرائع اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ ملا عمر نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے بارے میں انکار کر دیا تھا۔ نائن الیون کے فوراً بعد ستمبر اور اکتوبر کے درمیان طالبان حکومت نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا کہ ملا عمر اسامہ بن لادن کو ملک بدر کرنے کو تیار ہے لیکن اس وقت کے امریکی صدر بش نے یہ کہہ کر طالبان کی آفر رد کر دی کہ امریکہ دہشت گردوں سے کسی صورت بات چیت نہیں کرے گا۔
نائن الیون کے چار ہفتوں بعد ہی 7 اکتبور 2001 میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس حقیقت کے باجود کہ امریکہ سمیت دنیا کے کسی ملک کے پاس افغانستان کے خلاف امریکہ پر حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا
مظفر جنگ

صحافی، کالم نگار، مورخ اور مصنف مظفر جنگ کے مضامین ،تجزیے، خبریں اور کالم کسی طور پربھی ، دوسری جگہ پر شائع نہیں کیے جاسکیں گے، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی کا حق رکھتے ہیں

Muzaffar Jang is a senior and seasoned journalist working in English and Urdu newspapers and publications. He may be reached at his email address: alijournalist@hotmail.com or at his whatsapp no : 0304-0040462


About

Leave Comment

Skip to toolbar