Wednesday , December 2 2020

امام خمینی، نابالغ خودکش حملہ آور اور تائیوان کی بنی جنت کی چابیاں

انسان کی زندگی خدا کی طرف سے ایک حسین تحفہ ہے جسے چھینے کا کسی کو اختیار نہیں۔ اگرچہ اسلام میں خودکشی حرام ہے لیکن کچھ مذہبی جنونی لوگوں نے خودکشی کو بھی مذہبی رنگ دے کر دیدہ زیب بنا دیا ہے۔جہاں سنی اور وہابی سلفی انتہا پسندوں نے اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کیا وہاں پر شیعہ علماء اکرام کا کردار بھی انتہائی قابل مذمت ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایرانی اور شیعہ خودکش حملہ آوروں نے بھی ویسی ہی دہشت پھیلائی جیسے آج کے دور میں طالبان اور داعش کے خودکش حملہ آور پھیلا رہے ہیں۔ امام خمینی نے اسلامی تعلیمات کے برخلاف خود ساختہ اسلامی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے دوسرے ملکوں میں پھیلایا بھی۔ انہوں نے خودکش حملوں کو جہاد کی صف اول میں رکھا۔ اسی دور میں تمام دنیا میں شعیہ مذہب کو انتہا پسند مذہب سمجھا جانے لگا۔ امام خمینی نے اسلام میں جدت طرازی کرتے ہوئے یہ کہا کہ اعلی مقاصد کے حصول کے لیے انفرادی قربانی دینا ضروری ہے جس کا آسان لفظوں میں یہ مطلب تھا کہ یہ دنیا برائیوں کی جڑ ہے اور جہاں انسان خود کی مادی قربانی دے کر روحانی بلندی حاصل کر سکتا ہے۔ خمینی نے حضرت امام حسین کی کربلا میں قربانی کو بھی اپنی دلیل کی سچائی کے لیے استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت امام حسین حجاز سے سوئے کربلا چلے تو انہیں پہلے ہی پتا تھا انہوں نے زندہ سلامت واپس نہیں آنا۔ اگرچہ ہر سال یوم عشورہ پر حضرت امام حسین کی شہادت کی یاد تازہ کی جاتی ہے لیکن امام خمینی نے کہا سال میں ایک بار حضرت امام حسین کی قربانی کی یاد تازہ کرنا ناکافی ہے بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر دہرایا جانا چاہیئے۔
یہاں اسکا کا بھی تذکرہ انہتائی ضروری ہے کہ شیعہ عقائد کے مطابق امام مہدی زمانہ غیبت میں ہیں اور جب دنیا میں انکا دوبارہ ظہور ہو گا اس وقت وہ جہاد کا اعلان کریں گے تب تک شیعہ مسلم پر جہاد کرنے کی ذمہ داری نہیں آتی لیکن امام خمینی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا مجتہد جہاد کا اعلان کر سکتا ہے
1983 میں امام خمینی نے فتوی کے ذریعے اجازت دی کہ بارہ سال سے اوپر کا کوئی بھی بچہ اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر رضا کارانہ طور پر جہاد کی نیت سے جنگ میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ نابالغ بچوں کی فوج کو امام کی زیر تربیت فوج کا نام دیا گیا اور ان سے وعدہ وعید کیا گیا کہ اس جہاد میں شمولیت کے بدلے انہیں جنت میں اعلی مقام ملے گا۔ ہزاروں نابالغ بچوں کو خاص طور پر تائیوان سے پلاسٹک تیار کی گئی جنت کی کنجی دی گئی اور جامنی رنگ کا سر بند دیا گیا جس میں تحریر تھا کہ امام خمینی تا قیامت سلامت رہیں۔ ان بچوں کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا گیا اوران کا بڑی بے رحمی سے استعمال کیا گیا کبھی انہیں بارودی سرنگوں والے علاقوں میں دوڑایا جاتا تاکہ اگر وہاں کوئی بارودی سرنگ ہو تو وہ پھٹ جائے بچوں کی اس قربانی کے بعد باروردی سرنگوں کی صفائی ہو جاتی اور ایرانی فوج بہ آسانی وہاں سے گزر جاتی اور کبھی ان بچوں کو کو خودکش بنا کر دشمن فوج میں بھیج دیا جاتا اور کبھی ٹینکوں کے آگے لٹا دیا جاتا۔
زیادہ تر رضاکار نابالغ مجاہد جنگ میں جانے سے پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ کر جاتے اور یہ وصیت نامہ یا توامام کے نام پر ہوتا یا فوج میں شامل دیگر رضا کاروں کے نام ہوتا ہے۔ ان کا وصیت نامہ کی تحریر عمومی طور یہ ہوتی
” میں اپنی گذشتہ چودہ سالہ عمر میں ایک جاہل انسان تھا اور یہ میرے لیے کتنی بدقسمتی والا عہد تھا اور یہ میری عمر میرے لیے شرمندگی کا سبب تھی۔ میں نے اپنے چودہ سال بغیر خدا کو پہچانے ہی گزار دیے۔ امام نے میری آنکھیں کھولیں۔۔موت میرے لیے کتنی چاشنی بھری ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مومنین کے لیے رحمت ہے۔
جنگ میں کسی بچے کی ہلاکت کو سوگ کی بجائے اخبارات میں خوشی کے طور پر اپنایا جاتا اور مرنے والے بچوں کے والدین کو لکھا جاتا کہ وہ انتہائی خوش قسمت لوگ ہیں جن کے بچوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
تحریر
مظفر جنگ

صحافی، کالم نگار، مورخ اور مصنف مظفر جنگ کے مضامین ،تجزیے، خبریں اور کالم کسی طور پربھی ، دوسری جگہ پر شائع نہیں کیے جاسکیں گے، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی کا حق رکھتے ہیں

Muzaffar Jang is a senior and seasoned journalist working in English and Urdu newspapers and publications. He may be reached at his email address:


About

Leave Comment

Skip to toolbar