Saturday , August 8 2020

اللہ کی مخلوق کو تکلیف دینے کے لئے وزارت موسمیاتی تبدیلی ذمہ دار ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

اعتماد نیوز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے چڑیا گھر سے عدالتی احکامات کے باوجود ریچھوں کی عدم منتقلی کے کیس میں ریچھوں کی حفاظت کا انتظام نہ ہونے اور عدم منتقلی پر اظہار برہمی کیا ۔

جمعرات کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بیرون ملک سے چڑیا گھروں کے لئے چالیس زرافے لائے گئے جو سب مر چکے ہیں، ہمارے سر شرم سے جھک جانے چاہئیں ۔

عدالت نے کہاکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی جانوروں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کی ذمہ دار ہے، اس سارے کیس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی صرف سیاست کرتی رہی۔

عدالت نے کہاکہ اللہ کی مخلوق کو تکلیف دینے کے لئے وزارت موسمیاتی تبدیلی ذمہ دار ہے، یہ عدالت سب کا کنڈکٹ دیکھ رہی ہے کہ کون کیسے سیاسیت کر رہا ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی صرف بیان بازی اور سیاست میں دلچسپی رکھتی ہے۔

دور ان سماعت بلکسر میں قائم جانوروں کی پناہ گاہ کے منتظم ڈاکٹر فخر عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ بلکسر انتظامیہ کے مطابق ریچھ بلکسر سے زیادہ اسلام آباد میں محفوظ ہیں، بلکسر میں ریچھوں کے لئے مرغزار چڑیا گھر سے بھی چھوٹی جگہ ہے۔

عدالت نے کہاکہ بلکسر پرائیویٹ پارٹی کی جگہ ہے لیکن ریچھوں کی منتقلی سے متعلق حکومت کی معاونت کرے۔عدالت نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بلکسر انتظامیہ کیساتھ ملکر 3 اگست تک ریچھوں سے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت تین اگست تک ملتوی کر دی گئی


About

Leave Comment

Skip to toolbar