Saturday , August 8 2020

اسلام آباد میں شری کرشنا مندر کی تعمیر اسلام کی روح کے منافی ہے. پرویز الہی

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی.

لاہور: (اعتماد نیوز) مسلم لیگ (ق) پنجاب کے صدر چودہدری پرویز الہی نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف ‘اسلام کی روح کے مفافی ہے’ بلکہ ‘ریاست مدینہ کی بھی توہین ہے’۔

چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت اقلیتوں کے حقوق کی حمایت کرتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، اس کے دارالحکومت میں نئے مندر کی تعمیر نہ صرف اسلام کی روح کے منافی ہے . جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے وہاں مندر بنانے میں کوئی حرج نہیں.

انہوں نے کہا کہ ‘موجودہ مندروں کی تزئین و آرائش ان کے دور اقتدار میں ہوئی تھی، ان کی حکومت نے کٹاس راج مندر کی مرمت کروائی تھی بلکہ گرجا گھروں کی مرمت کے لیے بھی پہلی مرتبہ بجٹ میں فنڈز رکھے گئے تھے’۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں ہندو برادری کی آبادی مبینہ طور پر تقریباً 3 ہزار ہوچکی ہے، جس میں سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین، کاروباری برادری کے افراد اور بڑی تعداد میں ڈاکٹرز شامل ہیں۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی تھی، یہ منظوری وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی وزیراعظم سے ملاقات میں گرانٹ کے لیے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آئی تھی۔

اس سے قبل 23 جون کو ایچ 9 ایریا میں دارالحکومت کے پہلے مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی کی جانب سے مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اسلام آباد ہندو پنچایت نے مذکورہ مندر کا نام شری کرشنا مندر رکھا ہے اور وہی اس کے انتظام دیکھے گی۔

اس حوالے سے پنچایت کے صدر مہیش چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سندھ سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں ان علاقوں میں سیکیورٹی کے مسائل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب یہاں ہمارے خاندان ہیں تو ہمیں اجتماعی عبادات اور شادیوں کی تقریب کے لیے ایک مقام کی ضرورت ہے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر 2017 میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے ایچ 9/2 میں 20 ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ ہندو پنچایت کو دیا گیا تھا۔ تاہم سائٹ میپ، سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز سے دستاویزات کی منظوری سمیت دیگر رسمی کارروائیوں کے پورے ہونے میں تاخیر کی وجہ سے تعمیرات کام شروع نہیں ہوسکا تھا۔


About

Leave Comment

Skip to toolbar